جوبائیڈن کی تجاویز کو نظرانداز کرنا اسرائیل کے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا:اپوزیشن لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دو روز قبل امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیےتجویز کردہ منصوبےکو قبول کرنے کےلیے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر اندرونی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لپیڈ نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو قبول کرے ورنہ اسرائیل بہت کچھ کھو دے گا۔

’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی نئی ٹویٹ میں لپیڈ نے اتوار کو قیدیوں کی ڈیل کو واپس لینے کے خلاف خبردار کیا

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے مشیر کے بیانات نے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل پہلے اس معاہدے پر رضامند تھا اور اب اگر وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے تو یہ قیدیوں کے لیے سزائے موت کے مترادف ہو گا۔اس سے امریکیوں اور ثالثی کرنے والے ممالک مصر، امریکہ اور قطر کا اسرائیل کے ساتھ اعتماد کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

جوبائیڈن کی تجاویز مثالی منصوبہ نہیں

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے پیش کی گئی تجویز پرمشرق وسطیٰ میں امید کی ایک نئی کرن کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اوران کے حواریوں کے اس پر بیانات حوصلہ افزا نہیں۔

نیتن یاھو کے مشیر ’اوفیر فالک‘ نے کہا کہ بائیڈن کی تقریرمیں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ غیر واضح وجووہات کی بنا پر محض ایک "سیاسی تقریر" تھی۔

انہوں نےکہا کہ تل ابیب نے امریکی صدر کی طرف سے اپنی تقریر میں پیش کیے گئے وسیع منصوبوں کو مسترد نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر اس نے پہلے اتفاق کیا تھا مگر اسے مثالی نہیں قرار دیا تھا۔

"حماس کا خاتمہ"

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بہت سی تفصیلات ہیں جن پر کام کرنا ضروری ہے۔ اسرائیلی حکومت کے تمام اہداف حاصل کرنے سے پہلے غزہ میں کوئی مستقل جنگ بندی نہیں نہیں ہوگی۔ حماس کے خاتمے کے حوالے سے نیتن یاہو نے اپنا موقف دہرایا ہے اور وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے جاری بیان جوبائیڈن کی تجاویز پر ہمارا رد عمل ہے‘‘۔

اوفیر فالک نے اتوار کے روز اخبار سنڈے ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں زور دیا کہ اسرائیل نے اس منصوبے یا اس معاہدے کو مسترد نہیں کیا۔ یہ کوئی اچھی اور آئیڈیل ڈیل نہیں ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے"۔

انتہاپسند وزراء کی دھمکی

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ قیدیوں کی رہائی اور حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر تباہ کرنا ہمارا اولین عزم ہے"۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روزکو بائیڈن کی غزہ میں جنگ کے خاتمے کی تجویز پر اسرائیل کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ اسرائیلی لیڈروں نے اس کی مخالفت کی جن میں انتہا پسند وزراء ایتمار بین گویر اور بزلئیل سموٹرچ شامل ہیں۔ انہوں نے جوبائیڈن کی ڈیل کی تجویز کو قبول کرنے کی صورت میں نیتن یاھو کی حکومت گرانے کی دھمکی دی۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اس کے تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔

جوبائیڈن کے بیان حماس نے اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ امریکی صدر کے منصوبے کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے، لیکن ثالثوں کی جانب سے وضاحت کا انتظار کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں