.

عمران خان کے امن مارچ پر جنوبی وزیرستان داخلے پر پابندی

امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی ریلی اختتام پذیر؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی قیادت میں امریکا کے ڈرون حملوں کے خلاف امن ریلی کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا امن کاررواں اتوار کی صبح صوبہ خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے جنوبی وزیرستان کے لیے روانہ ہوا تھا اور اس میں سیکڑوں کاریں اور دیگر گاڑیاں شامل تھیں۔قافلے نے ٹانک شہر سے ہوتے ہوئے جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ کئی پہنچنا تھا لیکن مقامی انتظامیہ نے اس کو قبائلی علاقے کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق اب جماعت نے ٹانک شہر کے جہاز گراؤنڈ میں عوامی جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی صحافی فضل الرحمان نے العربیہ کو بتایا کہ عمران خان کا قافلہ رات ڈیرہ شہر گزارنے کے بعد میں اتوار کی صبح اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا تھا۔ اس میں شامل بیشتر گاڑیاں بیرون شہر واقع بائی پاس سے ہی ٹانک کی جانب مڑ گئی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ امن کارواں میں یوں تو ہزاروں افراد شریک تھے لیکن ان میں ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی لوگوں کی تعداد کم تھی جبکہ عمران خان کے آبائی شہر میانوالی اور اس کے ساتھ واقع صوبہ پنجاب کے دوسرے ضلع بھکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں شامل تھے۔قافلے کے ساتھ ملکی اور غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں رات کو ٹھہرنے کے لیے خاطرخواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ٹانک سے محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی عمران خان کے امن قافلے میں شامل ہوگئی تھی اور وہ امن کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے موجود امیر حکیم اللہ محسود اورامریکی ڈرون حملے میں مارے گئے سابق امیر بیت اللہ محسود کا تعلق اسی قبیلے سے تھا۔اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے جنگجو بڑی تعداد میں طالبان کی صفوں میں شامل ہیں۔

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کا امن کارواں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔عمران خان نے روانہ ہونے سے قبل اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ بہر صورت جنوبی وزیرستان جائیں گے لیکن انھیں اور ان کے قافلے کو ٹانک روڈ پر منجی خیل کے علاقے میں واقع چیک پوسٹ پر روک لیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے امن مارچ کو علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور اس نے علاقے میں کرفیونافذ کرکے پولیس اور فرنٹئیر کور کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔پی ٹی آئی کے ایک مقامی عہدے دار کا کہنا تھا کہ ٹانک کی انتظامیہ نے انھیں منجی خیل کے علاقے ہی میں مارچ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

عمران خان نے پہلے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان جانے کا پروگرام بنایا تھا جہاں اس سال اب تک سب سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے ہیں اور جہاں امریکیوں کے بہ قول افغانستان میں قابض فوجوں کے خلاف برسرپیکار طالبان جنگجو اور القاعدہ کے عناصر چھپے ہوئے ہیں لیکن بعد میں انھوں نے صرف جنوبی وزیرستان جانے کا پروگرام بنایاتھا اورامن قافلے کے روٹ میں اس تبدیلی پر انھیں بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تاہم قافلے کو روکے جانے پر عمران خان اور ان کی جماعت کے دوسرے لیڈروں نے کہا کہ انھوں نے جس مقصد کے لیے ریلی نکالی تھی،وہ پورا ہوگیا ہے اور وہ پوری دنیا میں اپنا یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت ،خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔امن قافلے کے ساتھ جانے والے ملکی اور غیرمیڈیا نے اس کو نمایاں کوریج دی ہے اور خاص طور پر پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر ہفتے کے روز سے امن قافلہ ہی چھایا ہوا ہے اور اس کی نقل وحرکت کی پل پل کی خبریں نشر کی جارہی ہیں۔