.

ارکان پارلیمان کی شہریت، بیان حلفی کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن

حلف نامہ نہ دینے والا رکن دُہری شہریت کا حامل متصور ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمان کو اپنی، اپنی شہریت سے متعلق نئے حلف نامے جمع کرانے کے لیے تیس دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد نے اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کے زیر صدارت اجلاس میں ارکان پارلیمان کی دُہری شہریت اور ان سے نئے حلف نامہ لینے کے معاملے پر غور کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو ارکان پارلیمان تیس دن کے اندر اپنی شہریت سے متعلق نئے حلف نامے جمع نہیں کراتے، انھیں دُہری شہریت کا حامل سمجھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں ارکان پارلیمان سے تازہ حلف نامے لیے جارہے ہیں اور بعض ارکان پارلیمان نے الیکشن کمیشن اسلام آباد اور چاروں صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر میں تازہ بیان حلفی جمع کرا دیے ہیں۔

اشتیاق احمد نے بتایا کہ پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے چودہ ارکان، قومی اسمبلی کے ایک سو چالیس، پنجاب اسمبلی کے چار، بلوچستان اسمبلی کے پچیس اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے پانچ ارکان نے اپنی اپنی شہریت سے متعلق نئے حلف نامے جمع کرا دیے ہیں لیکن سندھ اسمبلی سے ابھی تک کسی رکن اسمبلی نے بیان حلفی جمع نہیں کرایا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عدالتِ عظمیٰ کی ہدایت پر سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو چوبیس ستمبر کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ آئین کی دفعہ باسٹھ کی شق ایک سی کے تحت یہ بیان حلفی جمع کرائیں کہ وہ اس کے تحت نااہل نہیں ہیں۔ اس دفعہ کے تحت پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کا شہری پارلیمان یا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب نہیں ہو سکتا۔

الیکشن کمیشن نے دو اکتوبر کو اراکین پارلیمان کو دُہری شہریت سے متعلق یاد دہانی کا خط لکھا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ نو اکتوبر تک اپنے اپنے نئے حلف نامے جمع کرا دیں لیکن سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکرٹریز نے اس ہدایت پر عمل درآمد سے انکار کر دیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں گذشتہ ماہ دُہری شہریت رکھنے والے کسی بھی پاکستانی کو آیندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دینے اور موجودہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے دُہری شہریت سے متعلق نیا حلف نامہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ پاکستان نے بیس ستمبر کو دُہری شہریت والے ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا اور ان کی رکنیت ختم کر دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جن گیارہ قانون سازوں کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹی فیکشن جاری کیا تھا، ان کے نام یہ ہیں: زاہد اقبال، فرح ناز اصفہانی، محمد اخلاق، اشرف چوہان، نادیہ گبول، آمنہ بٹر، جمیل اعوان، وسیم قادر، فرحت محمود خان، ندیم خادم اور احمد علی شاہ۔ ان کے خلاف اب مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ سیشن عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔