.

عدالت عظمی کا بلوچستان میں 13 لڑکیاں ونی کرنے کا از خود نوٹس

قانون میں 'ونی' کرنے پر قید و جرمانے کی سزا مقرر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ملک کے مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں تیرہ بچیوں کو 'ونی' کئے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے طارق مسوری بگٹی اور ونی قرار دی گئی بچیوں کو کل عدالت میں طلب کر لیا۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے نوٹس کی سماعت میں ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ علاقے کا نہیں بلکہ ونی کی جانے والے بچیوں کو انصاف دلانے کا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی کا کہنا ہے کہ بچیوں کو ڈیرہ بگٹی نہیں بلکہ ضلع بارکھان میں ونی کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پانچ روز قبل بکر میں مبینہ طور پر رکن اسمبلی طارق مسوری بگٹی کی سربراہی میں ایک جرگے کا انعقاد ہوا تھا اور خونی تنازعے کے تصفیے کیلئے تیرہ لڑکیوں کو ونی کردیا تھا۔ تیرہ لڑکیاں ونی میں دینے کے ساتھ ساتھ جرگے نے تیس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

تاہم طارق مسوری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی انہیں ایسے کسی جرگے کے بارے میں علم ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی صدارت کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں موجود نہیں تھے۔

پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ناراض پارٹی کو تنازعہ حل کرنے لئے لڑکیاں شادیوں کے لئے دے دی جاتیں ہیں۔ اس رسم کو "ونی" کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ رسم برسوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں مختلف ناموں سے موجود ہیں۔

خواتین کے خلاف مظالم کی روک تھام کے لئے سن دو ہزار گیارہ میں ایک ایکٹ بنایا گیا تھا جس نے 'ونی' کی رسم کو جرم قرار دیا تھا۔

اس قانون کے مطابق "کوئی بھی آدمی بدلہ صلح، ونی، سوارا یا کسی دوسری رسم یا پریکٹس کے تحت چاہے وہ کسی نام سے بھی ہو، کسی سول تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے کسی بھی لڑکی کو شادی کے لئے دے گا یا اسے شادی پر مجبور کرے گا، اسے قید کی سزا دی جائے گی جو سات سال تک ہوسکتی ہے لیکن تین سال سے کم نہیں ہوسکتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر پانچ لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔"