.

ملالہ یوسف زئی کے سر میں لگی گولی نکال لی گئی

شدید زخمی بہادر لڑکی کی حالت خطرے سے باہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے شمال مغربی علاقے سوات میں گذشتہ روز طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی بہادر لڑکی ملالہ یوسف زئی کے سرمیں لگی گولی نکال لی گئی ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

چودہ سالہ ملالہ یوسف زئی کو گذشتہ روز سوات میں مسلح افراد نے سر اور گردن میں اسکول سے واپسی کے وقت گولی ماری تھی۔اس حملے میں دو اور بچیاں بھی زخمی ہوگئی تھیں۔ملالہ کو پاکستان آرمی کے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کریا گیا تھا۔

فوجی اسپتال میں ملالہ کی نگہداشت پر مامور ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ممتاز خان نے بتایا ہے کہ زخمی طالبہ کے دماغ میں اچانک سوجن شروع ہوگئی تھی جس کے بعد ہنگامی طور پر ان کی سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔رات دو بجے سے بدھ کی صبح پانچ بجے تک ملالہ کا آپریشن جاری رہا اور ان کے حرام مغز کے قریب سے گولی کو نکال لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملالہ کی گردن میں لگنے والے گولی حرکت کرتے ہوئے کندھے تک آگئی تھی۔ ان کےبہ قول ملالہ یوسف زئی کی حالت بہتر ہونے کی امید ہے۔البتہ اس وقت بے ہوش ہے اور اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا جارہا ہے۔

پاک آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اسپتال میں ملالہ کی خیریت دریافت کی اور انھوں نے حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔

درایں اثناء وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق ملالہ یوسف زئی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، اس لیے اسے بیرون ملک بھجوانے کا فیصلہ موٴخر کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور لندن میں نیورو سرجن تیار ہیں، ضرورت پڑنے پر انھیں پاکستان بلالیا جائے گا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ملالہ پر فائرنگ کرنے والوں کی شناخت ہوگئی ہے، وہ کہیں بھی فرار ہوجائیں، انھیں گرفتار کرلیں گے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہمیں پتا ہے دہشت گرد کتنے دن پہلے سوات آئے تھے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ اپیل بھی کردی ہے کہ ملالہ پر حملہ کرنے والوں کے بارے میں اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہوں تو ہمیں فراہم کریں،ہم حملہ آوروں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیں گے۔

ملالہ اور ان کی ساتھی طالبات پر حملے کی پاکستان کے صدر آصف زرداری ،وزیراعظم راجا پرویز اشرف، تمام سیاسی ودینی طبقات اور لیڈروں نے شدید مذمت کی ہے اور ملک بھر میں ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کی جارہی ہیں۔وادیٔ سوات میں اس واقعہ کے خلاف بدھ کو احتجاج کے طور پر اسکول بند رہے ہیں۔ان کے آبائی شہر مینگورہ میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔

طالبان نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مغرب نواز تھی اور علاقے میں مغربی ثقافت اور اقدار کے فروغ کے لیے کام کررہی تھی۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں کہا کہ جو کوئی عورت بھی کسی بھی طریقے سے مجاہدین کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرے گی ،اسے قتل کردیا جانا چاہیے۔