.

اورکزئی ایجنسی امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملےمیں 16 افراد ہلاک

اورکزئی اور سبی میں بم دھماکوں میں 13 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام شمال مغربی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں سولہ افراد ہلاک اور چھے زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستانی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکی ڈرون نے جمعرات کو اورکزئی ایجنسی کے علاقے بلند خیل میں ایک ٹھکانے پر چار میزائل داغے ہیں۔ یہ علاقہ شورش زدہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

حکام کے مطابق امریکی ڈرون نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ایک کمانڈر مولانا شاکر اللہ کے کمپاؤنڈ (مدرسے) کو نشانہ بنایا ہے۔ مولانا شاکر اللہ کے زیر کمان جنگجو حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے وابستہ ہیں۔ فوری طور پر حملے میں مارے گئے افراد کی شناخت یا قومیت معلوم نہیں ہو سکی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی ڈرون نے اورکزئی اور شمالی وزیرستان ایجنسی کی سرحد کے عین اوپر واقع شاکر اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر دو میزائل داغے تھے جس سے پوری عمارت تباہ ہو گئی اور حملے میں سولہ جنگجو مارے گئے ہیں۔تاہم بعض سکیورٹی عہدے داروں کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون نے شمالی وزیرستان کی سرحد پر حملہ کیا ہے اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کافی دیر تک فضا میں پروازیں کرتے رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ جائے وقوعہ سے دور ہی رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حافظ گل بہادر گروپ پر امریکا سرحد پار افغانستان میں قابض غیر ملکی فوجوں پر حملوں کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے۔ اس گروپ سے وابستہ زیادہ تر جنگجوؤں کے شمالی وزیرستان میں ٹھکانے بتائے جاتے ہیں۔خود حافظ گل بہادر کا مرکز بھی شمالی وزیرستان میں واقع ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کا یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔ اس سے پہلے سن 2009ء میں اورکزئی ایجنسی کے علاقے ماموزئی میں خادے زئی کے مقام پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں حکیم اللہ محسود گروپ سے وابستہ گیارہ جنگجو مارے گئے تھے۔

امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کم سے کم تین سو ڈرون حملے کیے ہیں۔ان میں زیادہ تر حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے گئے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں میں جنگجو یا ان کے حامی مارے جارہے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آ رہی ہیں اور انھوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جا رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ اتوار کو ڈرون حملوں کے خلاف جنوبی وزیرستان کی سرحد تک امن مارچ کیا تھا اور ان حملوں کو پاکستان کی علاقائی خودمختاری ،سالمیت اور بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا تھا لیکن ان کے احتجاج اور امن مارچ کے باوجود ڈرون حملوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔

بم دھماکے

قبل ازیں جمعرات ہی کو اورکزئی ایجنسی کے علاقے حسن زئی بازار میں مشتی میلا روڈ پر سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہو گئے۔جاں بحق اور زخمیوں کو مقامی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے شہر سبی میں بھی ایک شاہراہ پر بم کا دھماکا ہوا ہے۔اس واقعہ میں پانچ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی نے بتایا ہے کہ بم بیس کلو وزنی تھا اور یہ ایک رکشے میں نصب کیا گیا تھا جو سبی شہر کی نشتر روڈ پر دھماکے سے پھٹ گیا۔دھماکے سے بارہ دکانیں اور پانچ گاڑیاں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔