.

ملالہ پشاور سے راول پنڈی منتقل، حالت بدستور تشویش ناک

ہوش میں آنے میں مزید دو دن لگ سکتے ہیں: ڈاکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے شمال مغربی علاقے سوات میں دو روز پہلے دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی کو پشاور کے فوجی اسپتال سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے راول پنڈی میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔

ملالہ یوسف زئی کے علاج اور نگہداشت پر مامور ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ، نیورو سرجن ڈاکٹر ممتاز خان نے بتایا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کو اگلے دو دن کے لیے وینٹی لیٹر( مصنوعی تنفس) پر رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سر میں لگنے والی گولی نے ملالہ کے دماغ کے کچھ حصے کو متاثر کیا ہے۔ انھیں ستر فی صد تک امید ہے کہ ملالہ یوسف زئی سلامت رہیں گی۔ تاہم اس کے ہوش میں آنے میں مزید دو دن لگ سکتے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ ملالہ کی سرجری کے بعد اب ان کی نگہداشت زیادہ ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں نے ملالہ کو اے ایف آئی سی راول پنڈی میں منتقل کرنے کی سفارش کی تھی کیونکہ یہاں اس کی نگہداشت کے لیے بہترین سہولتیں موجود ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملالہ ابھی تک بے ہوش ہے اور آیندہ چوبیس گھنٹے ان کی صحت کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

چودہ سالہ ملالہ یوسف زئی پر منگل کو مینگورہ (سوات) میں اسکول سے واپسی کے وقت مسلح افراد نے سر اور گردن میں گولی مار دی تھی۔اس قاتلانہ حملے میں دو اور بچیاں بھی زخمی ہو گئی تھیں۔ان میں سے ایک بچی کی بھی حالت تشویش ناک ہے۔ ملالہ کو پاکستان آرمی کے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کیا گیا تھا جہاں بدھ کو علی الصباح تین گھنٹے تک سرجری کے بعد ان کے سر سے گولی نکال لی گئی تھی۔

اندرون اور بیرون ملک سے اس نڈر طالبہ پر حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی صدر براک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سمیت مختلف عالمی لیڈروں نے دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔

اس طالبہ نے تین سال قبل وادیٔ سوات میں طالبان جنگجوؤں کی چیرہ دستیوں کے خلاف لکھی گئی اپنی ڈائری اور بی بی سی کے لیے بلاگ سے عالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔ تب طالبان جنگجو سوات میں طالبات کے اسکولوں کو خاص طور پر بموں سے اڑا رہے تھے اور انھوں نے سیاحوں کی جنت سمجھی جانے والی وادی میں خوف و دہشت پھیلا رکھی تھی۔

درایں اثناء صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ملالہ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی گرفتاری سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ادھر مینگورہ میں پولیس نے متعدد افراد کو حملے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔تاہم ان میں سے بعض کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ملالہ پر فائرنگ کرنے والوں کی شناخت ہو گئی ہے، وہ کہیں بھی فرار ہو جائیں، انھیں گرفتار کرلیں گے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہمیں پتا ہے دہشت گرد کتنے دن پہلے سوات آئے تھے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ اپیل بھی کردی ہے کہ حملہ آوروں کے بارے میں اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہوں تو ہمیں فراہم کریں، ہم ان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دیں گے۔