.

ملالہ یوسف زئی کو علاج کے لئے برطانیہ بھجوا دیا گیا

منتقلی کے لئے ایئر ایمبولینس یو اے ای نے فراہم کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
طالبان شدت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والی 14 سالہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو مزید علاج کے لیے پیر کو علی الصباح برطانیہ بھجوا دیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملالہ کے علاج کے مشکل مرحلے سے بین الاقوامی معیار کے عین مطابق نمٹا جا چکا ہے اور طبی ماہرین اُس کی موجودہ 'مناسب ترین' حالت سے خوش ہیں۔



"پاکستانی ڈاکٹروں کے پینل اور بین الاقوامی ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جسمانی طور پر اور اس چوٹ کے نفسیاتی اثرات سے صحت یاب ہونے کے لیے ملالہ کو طویل علاج کی ضرورت ہو گی۔"

فوجی ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹروں کے پینل نے ملالہ کو برطانیہ کے ایک طبی مرکز میں منتقل کرنے کی سفارش کی تھی جہاں ایسے زخمی بچوں کے علاج معالجے کے لیے تمام سہولیات دستیاب ہیں۔

"توقع ہے کہ وقت گزرنےکے ساتھ اُس کی کھوپڑی کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے یا انھیں تبدیل کرنے اور اعصابی نظام کی بحالی کے لیے طویل المدت علاج کی ضرورت ہو گی۔"

متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی 'وام' کے مطابق شاہی خاندان کی طرف سے اتوار کو اسلام آباد بھیجی جانے والی خصوصی ائر ایمبولینس کے ذریعے راولپنڈی کے فوجی اسپتال میں زیر علاج ملالہ کو برطانیہ بھیجا گیا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کے علاج پر اُٹھنے والے تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی۔

ملالہ یوسف زئی پر گزشتہ ہفتے سوات کے انتظامی مرکز مینگورہ میں اُس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ اسکول وین میں واپس گھر جارہی تھی۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اُسے فوری طور پر پشاور منتقل کر دیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق گولی اُس کے سر میں لگنے کے بعد ریڑھ کی ہڈی کی جانب گردن میں داخل ہو گئی تھی جسے پشاور سی ایم ایچ اسپتال میں سرجری کر کے نکال لیا گیا۔

مگر سر پر چوٹ لگنے سے اُس کے دماغ میں سوجن ہو گئی جس کے علاج کے لیے بعد میں اُسے راولپنڈی کے فوجی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

ملالہ کے ہمراہ وین میں سفر کرنے والی اُس کی دو ساتھی طالبات بھی اس حملے میں زخمی ہو گئی تھیں۔ ان میں سے ایک کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد گھر بھیج دیا گیا جبکہ دوسری ابھی اسپتال میں زیر علاج ہے، البتہ اُس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے زندہ بچ جانے کی صورت میں ملالہ پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والی اس پاکستانی لڑکی نے تین سال قبل وادی پر شدت پسندوں کے قبضے کے دوران 'گل مکئی' کے فرضی نام سے لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور شدت پسندی کے خلاف مہم چلائی تھی جس کی پاداش میں طالبان نے اس پر حملہ کیا۔