.

پشاور چیک پوسٹ پر حملہ، ایس پی سمیت سات اہلکار جاں بحق

ایس پی کی بہادری کے اعتراف میں ستارۂ جرآت دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں تین سو سے زیادہ جنگجوؤں کے ایک چیک پوسٹ پر حملے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سمیت سات اہکار جاں بحق اور بارہ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے سوموار کو پشاور کے نواح میں کوہاٹ روڈ پر واقع متنی کے علاقے میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کے بعد حملہ آور جنگجوؤں کی فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) اور پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ تین گھنٹے تک لڑائی ہوتی رہی۔

اس خونریز لڑائی میں پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (رورل) خورشید خان، تین پولیس اہلکار اور ایف سی کے چار اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق مسلح جنگجوؤں نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس پی خورشید خان کا موقع پر ہی سر قلم کر دیا تھا۔

لڑائی میں زخمی ہونے والے پولیس اور ایف سی کے بارہ اہلکاروں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جنگجوؤں نے چیک پوسٹ کو نذر آتش کر دیا جس سے وہاں پڑا تمام سامان اور آلات جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ حملے میں چار گاڑیاں اور تین موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجو حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ان کی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار لاپتا ہیں۔ فوری طور پر کسی گروپ نے سکیورٹی فورسز پر اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کی ہے اور ایس پی خورشید خان کو ان کی بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت ملک کا اعلیٰ اعزاز ستارۂ جرآت دینے کا اعلان کیا ہے۔