کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان کے سر کی قیمت 10 کروڑ روپے مقرر

ریڈیو ملاّ کو طالبان کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر داخلہ نے منگل کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''ریڈیو ملاّ ''فضل اللہ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انھوں نے مینگورہ، سوات میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے موجودہ امیر حکیم اللہ محسود کے روپوش اور غیر فعال ہو جانے کے بعد مولوی فضل اللہ کو نیا امیر مقرر کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ''اب حکیم اللہ محسود طالبان جنگجوؤں کی کارروائی کی کمان نہیں کر رہے ہیں''۔

مولوی فضل اللہ وادیٔ سوات میں طالبان کے سربراہ رہے تھے اور انھوں نے وہاں تین سال قبل مسلح بغاوت برپا کر دی تھی۔ان کی بغاوت کو فرو کرنے کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے علاقے میں ایک بڑی کارروائی کی تھی جس کے بعد ریڈیو ملاّ کی پہچان رکھنے والے فضل اللہ سرحد پار پڑوسی ملک افغانستان میں چلے گئے تھے۔

سواتی طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ فضل اللہ کے خصوصی اسکواڈ سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں کو ملالہ یوسف زئی پر حملے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس ترجمان نے ملالہ کے والد کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

وزیر داخلہ سوات میں ملالہ کے ساتھ قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ کائنات کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ انھوں نے بتایا کہ فرنٹیر کانسٹیبلری (ایف سی) کی تین پلاٹون کو حملے میں شدید زخمی ملالہ، کائنات اور شازیہ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملالہ کو بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم کردار اور اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے باوجود علاقے میں قیام امن کے لیے تگ و دو پر اعلیٰ سول اعزاز ستارہّ شجاعت دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں