.

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان کے سر کی قیمت 10 کروڑ روپے مقرر

ریڈیو ملاّ کو طالبان کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے سر کی قیمت دس کروڑ روپے مقرر کی ہے۔

وزیر داخلہ نے امریکی نیوز نیٹ ورک 'سی این این' کی نمائندہ کرسٹین امان پور کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں گذشتہ منگل کو پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور واقعے میں ملوث افراد کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو جو بھی پکڑے گا، اسے دس کروڑ روپے انعام دیا جائے گا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''ہمارے قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں واقعے میں ملوث افراد کا پیچھا کر رہی ہیں۔ مجھے کچھ اور نام بھی معلوم ہوئے ہیں لیکن میں ان کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس سے تحقیقات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم میں پاکستانی قوم اور پوری دنیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم بہت جلد ان کو پکڑ لیں گے''۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ''تحقیقات سے سامنے آنے والے شواہد کے مطابق ملالہ یوسف زئی پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ وہاں سے حملے کے لیے چار افراد آئے تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے شناخت کر لیا ہے، اس کے بعض ساتھیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں''۔

ریڈیو ملاّ

وزیر داخلہ نے منگل کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''ریڈیو ملاّ ''فضل اللہ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انھوں نے مینگورہ، سوات میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے موجودہ امیر حکیم اللہ محسود کے روپوش اور غیر فعال ہو جانے کے بعد مولوی فضل اللہ کو نیا امیر مقرر کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ''اب حکیم اللہ محسود طالبان جنگجوؤں کی کارروائی کی کمان نہیں کر رہے ہیں''۔

مولوی فضل اللہ وادیٔ سوات میں طالبان کے سربراہ رہے تھے اور انھوں نے وہاں تین سال قبل مسلح بغاوت برپا کر دی تھی۔ان کی بغاوت کو فرو کرنے کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے علاقے میں ایک بڑی کارروائی کی تھی جس کے بعد ریڈیو ملاّ کی پہچان رکھنے والے فضل اللہ سرحد پار پڑوسی ملک افغانستان میں چلے گئے تھے۔

سواتی طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ فضل اللہ کے خصوصی اسکواڈ سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں کو ملالہ یوسف زئی پر حملے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس ترجمان نے ملالہ کے والد کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

وزیر داخلہ سوات میں ملالہ کے ساتھ قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ کائنات کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ انھوں نے بتایا کہ فرنٹیر کانسٹیبلری (ایف سی) کی تین پلاٹون کو حملے میں شدید زخمی ملالہ، کائنات اور شازیہ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملالہ کو بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم کردار اور اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے باوجود علاقے میں قیام امن کے لیے تگ و دو پر اعلیٰ سول اعزاز ستارہّ شجاعت دے گی۔