.

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر سی این جی 30 روپے فی کلو سستی

صارفین کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی: چیف جسٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے حکم پر تیل اور گیس کی ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کمپریسڈ قدرتی گیس (سی این جی) کی قیمت میں 30 روپے فی کلوگرام تک کم کر دی ہے۔

اوگرا نے قیمتوں میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے مطابق پوٹھوہار کے سوا صوبہ پنجاب اورسندھ پرمشتمل ریجن دو میں سی این جی کی قیمت 30 روپے 38 پیسے کم کرکے 54 روپے 16 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ پوٹھوہار ریجن، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سی این جی کی فی کلو قیمت میں 30 روپے 90 پیسے کمی کی گئی ہے۔ ریجن ایک میں پہلے سی این جی کی فی کلو قیمت 92 روپے 54 پیسے تھی۔اب نئی قیمت 61 روپے64 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب سی این جی ایسوسی ایشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جمعہ سے ہڑتال اور سی این جی اسٹیشن بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور تنظیم اوگرا کو اس ضمن میں ایک خط بھی لکھ رہی ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری حکم میں سی این جی کی قیمتیں پیٹرول کی قیمتوں کے مطابق مقرر کرنے کے میکانزم کو غیر قانونی قرار دیا اور اوگرا کو ہدایت کی کہ وہ قیمتوں پر فوری طور پر نظر ثانی کرے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کے طریق کار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری حکم میں قرار دیا کہ کمپریسڈ قدرتی گیس کی فروخت پر دس روپے فی کلو شرح منافع اور حکومت کی جانب سے پیداواری لاگت کی وصولی بھی غیر قانونی ہے۔

پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارت کے سیکرٹری وقار مسعود نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر مقرر کرنے کا میکانزم کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آیندہ فیصلے تک معطل کر دیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سی این جی اسٹیشنز 11 روپے 91 پیسے فی کلو منافع کما رہے ہیں اور یہ صارفین کے استحصال کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ صارفین کے استحصال کی ہر گز بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سی این جی کی قیمت کو پیٹرول کی قیمت سے منسلک کرنا بھی غیر قانونی ہے۔

اوگرا کے چئیرمین سعید احمد خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت کی ریجن ایک میں گیس پہنچانے کی پروکیورمنٹ لاگت 19 روپے فی کلوگرام ہے جبکہ ریجن دو میں یہ لاگت 17روپے اور 57 پیسے ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ترقیاتی سر چارجز کو شامل کر کے گیس کی فی کلو قیمت کا تعین کرتی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے سی این جی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کو عوامی حلقوں نے سراہا ہے۔ اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ ہی عوام کے حقوق کی ضامن کے طور پر کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں کاریں اور دیگر چھوٹی گاڑیاں پیٹرول کے بجائے سی این جی پر چل رہی ہیں۔ اب گیس کی قیمتوں میں تیس روپے فی کلو تک کمی سے شہریوں کو نمایاں ریلیف ملے گا اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو روز افزوں مہنگائی کے دور میں شہریوں کے لیے عیدالاضحیٰ کا تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔