.

کوئی فرد یا ادارہ قومی مفاد کا تنہا فیصلہ نہیں کر سکتا جنرل کیانی

سپریم کورٹ ملک میں حتمی اختیارات کی حامل ہے: چیف جسٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ کوئی فرد یا ادارہ قومی مفاد کا تنہا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ عوام اور مسلح افواج کے درمیان تقسیم کی کسی بھی کوشش سے ملک کے وسیع تر قومی مفاد کو نقصان پہنچے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ ''مسلح افواج کو عوامی حمایت سے تقویت ملتی ہے۔اس کے بغیر قومی سلامتی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان دانستہ یا غیردانستہ طور پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش سے وسیع تر قومی مفاد کو نقصان پہنچے گا''۔

انھوں نے یہ انتباہ راول پنڈی میں فوج کے اعلیٰ افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''تعمیری تنقید کا خیرمقدم کیا جاتا ہے لیکن شکوک پیدا کرنے کے لیے افواہوں پر مبنی سازشی نظریات ناقابل قبول ہیں''۔

جنرل کیانی نے واضح کیا کہ ''عوام اور اداروں کے درمیان اتفاق رائے کے ذریعے ہی قومی مفاد پیدا کیا جا سکتا ہے لیکن کسی بھی فرد یا ادارے کو قومی مفاد کا تعین کرتے ہوئے درست یا غلط کا فیصلہ کرنے کی اجارہ داری حاصل نہیں ہے''۔

آرمی چیف نے کہا کہ ''بحیثیت قوم ہم ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ہم ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا ناقدانہ جائزہ لے رہے ہیں اوربہتر مستقبل کی راہ متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ملک میں ماضی میں ہم سب سے انفرادی طور پر غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن جب تک کسی کو ان غلطیوں کا قصور وارقرارنہیں دے دیا جاتا ،اس وقت تک وہ بے گناہ ہے۔ہمیں یہ معاملہ قانون پر چھوڑ دینا چاہیے''۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ''ہمیں کسی فرد، خواہ وہ عام شہری ہو یا فوجی افسر ہو، اس کے بارے میں ازخود ہی فیصلہ نہیں کرلینا چاہیے۔اس وقت پاکستان کے تمام نظام(سسٹمز) کچھ حاصل کرنے کی کوشش میں بڑی عجلت میں ہیں۔اس کے مثبت اور منفی، دونوں طرح کے مضمرات ہوسکتے ہیں''۔

انھوں نے (ایسے افراد/اداروں کو) مشورہ دیا کہ ''ہمیں تھوڑی دیر کے لیے رک کر دو بنیادی سوالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ایک ،کیا ہم قانون کی حکمرانی اور آئین کو فروغ دے رہے ہیں؟دوسرا، یہ کہ کیا ہم اداروں کو مضبوط بنا رہے ہیں یا کمزور کررہے ہیں؟''

لیکن یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی طاقتور فوج کے سربراہ کا روئے سخن چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چودھری کے تازہ بیان یا عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلوں اور اس کی فعالیت کی جانب تھا یا وہ ملک کی کمزور حکومت کو مخاطب تھے۔بیشتر مبصرین کے نزدیک ملک کی سول حکومت قانون کی حکمرانی کے قیام اور آئین کی پاسداری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

آرمی چیف کے اس بیان سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ''سپریم کورٹ ملک میں حتمی اختیارات کی حامل عدالت ہے۔ وہ دن گئے جب ملکی استحکام و ترقی کا تعین اسلحے، میزائلوں اور ٹینکوں سے کیا جاتا تھا''۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سو اٹھارویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ''قانون کے مطابق درست اصول و ضوابط کا فیصلہ کرنا ہماری مجبوری ہے۔ آج کے دور میں قومی تحفظ کے نظریات تبدیل ہو رہے ہیں، ماضی کی طرح ملکی استحکام و ترقی کا تعین اسلحے، میزائلوں اور ٹینکوں سے نہیں کیا جا سکتا''۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی ذمے داری ہے کہ تمام ملکی اداروں اور اتھارٹیز کے اختیارات پر آئینی بالادستی کو فوقیت دیں۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی پاسداری و پابندی تمام ملکی اداروں پر لازم ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''انتظامیہ اور عمل درآمد کرنے والے ڈھانچے کی ناکامی ہر جگہ نظر آ رہی ہے۔نظام سے انتشار کو ختم کیے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے۔عدالتیں ملک میں موجود معاشی مسائل سے متعلق بہت سے معاملات سے نبرد آزما ہیں۔اس صورت حال میں آئین و قانون کے منافی کیے جانے والے اقدامات ماحول اور معاشرے کو بدامنی کی طرف لے جائیں گے''۔