.

NRO عمل درآمد کیس سوئس حکام کو خط بھیج دیا گیا

پاکستانی صدر پر ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی کرپشن کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی حکومت نے بالآخر بادل نخواستہ قومی مفاہمتی آرڈی ننس (این آر او) پر عمل درآمد کیس کے تحت سوئس حکام کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے ایک کیس کی بحالی کے لیے خط بھیج دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں یہ خط دفتر خارجہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے اور یہ عدالت عظمیٰ کے پانچ اکتوبر کے حکم کے مطابق لکھا گیا تھا۔اس خط کا مسودہ عدالت عظمیٰ اور وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کے درمیان طے پائے نکات کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔ سوئس حکام کی جانب اس خط کو موصول ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں مرکزی حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں سوئس حکام کو خط لکھنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی اور پس وپیش سے کام لیتی رہی ہے اور اس نے یہ موقف اختیار تھا کہ آئین کے تحت صدر زرداری کو اندرون اور بیرون ملک قانونی استثنیٰ حاصل ہے اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

این آر او کیس پر عمل درآمد کے معاملے میں حکومت اور سپریم کورٹ کے درمیان تیس ماہ سے زیادہ عرصے تک محاذ آرائی جاری رہی تھی اور بالآخر دس اکتوبر کو عدالت عظمیٰ نے وزارت قانون کے تیارکردہ خطے کے مسودے کی منظوری دے دی تھی۔اس خط میں سوئس حکام سے صدر آصف زرداری کے خلاف بدعنوانی کا کیس دوبارہ کھولنے کا کہا گیا ہے۔

اس کیس کے تحت پاکستانی صدر کے خلاف عاید کردہ بدعنوانیوں کے الزامات کا تعلق 1990ء کی دہائی سے ہے۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اور ان کی مرحومہ اہلیہ، سابق وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے غیرملکی کمپنیوں سے کسٹمز کے معائنے کے لیے ٹھیکے حاصل کرنے کی خواہاں کمپنیوں سے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالرز رشوت کے طور پر وصول کیے تھے اور اس رقم کو ''مصفیٰ'' کرنے کے لیے اپنے سوئس بنک اکاؤنٹس استعمال کیے تھے۔

سوئٹزر لینڈ میں 2008ء میں آصف زرداری کے صدر پاکستان منتخب ہونے کے بعد اس کیس کو این آر او کے تحت داخل دفتر کر دیا گیا تھا۔اس ضمن میں سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سوئس حکام کو خط لکھا تھا۔

یادرہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 16دسمبر 2009ء کو سابق صدر پرویز مشرف کے جاری کردہ متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈی ننس کو آئین سے متصادم اور کالعدم قراردے دیا تھا اور 2010ء میں اس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جو 300 صفحات کو محیط ہے۔اس فیصلے کے تحت عدالت عظمیٰ نے این آر او کے تحت ختم کیے گئے تمام مقدمات کو اس آرڈی ننس کے اجراء کی تاریخ 5 اکتوبر 2007ء سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ان تمام مقدمات کو اُسی جگہ سے دوبارہ شروع کیا جائے جہاں ان پر این آر او کے تحت کارروائی روک دی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف بیرون ملک دائر مقدمات کی بحالی کا حکم دیا تھا اور حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں ان مقدمات کی بحالی کے لیے درخواست دے لیکن حکومت بوجوہ ایسا کرنے سے گریز کرتی رہی تھی۔عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر چند ماہ قبل سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر ان کو چلتا کیا تھا۔