.

پاکستان کے وزیر ریلوے کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید

شاتم رسول کے سر کی قیمت مقرر کرنے کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے وزیر ریلوے غلام احمد بلور پر شاتم رسول مصری نژاد امریکی فلم ساز کے سر کی قیمت مقرر کرنے کے ردعمل میں امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کر دی گئی ہے۔

حاجی غلام احمد بلور نے جمعہ کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ویزا سیکشن نے انھیں امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ پر لگا ویزا مستقبل میں استعمال نہ کریں۔

وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ امریکا میں بنی گستاخانہ فلم کے ڈائریکٹر کو قتل کرنے والے شخص لے لیے انعام کے اعلان کی وجہ سے ان پر یہ پابندی عاید کی گئی ہے لیکن انھیں امریکا کے اس فیصلے پر خوشی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ بھی غلام احمد بلور کے اپنے ہاں داخلے پر پابندی عاید کر چکا ہے۔

غلام احمد بلور نے 22 ستمبر کو شاتم رسول امریکی فلم ساز مارک بیسلے یوسف المعروف سام باسیلی کے ممکنہ قاتل کے لیے ایک لاکھ ڈالرز بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ''اگر حکومت اس شخص (سام باسیلی) کو میرے حوالے کردے تو میں اس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دوں گا۔ اس کے بعد وہ مجھے پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں''۔



بہتر سالہ غلام احمد بلور نے اس عظیم کام کے لیے طالبان جنگجوؤں اور القاعدہ سے بھی مدد طلب کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ''میں اپنے اعلان پر قائم ہوں۔ میں عدم تشدد کا قائل ہوں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو برداشت نہیں کیا جا سکتا''۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے وزیر ریلوے غلام احمد بلور کی جانب سے اس اعلان کے بعد ان کا نام اپنی ہٹ لسٹ سے خارج کر دیا تھا۔



امریکا نے تب غلام احمد بلور کے شاتم رسول فلم ساز کے ممکنہ قاتل کے لیے انعام کے اعلان کو نامناسب اور اشتعال انگیز قرار دیا تھا اور حکومتِ پاکستان نے وزیر ریلوے کے اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا ۔



مصری نژاد قبطی عیسائی شاتم رسول مارک بیسلے یوسف نے انٹرنیٹ پر 11 ستمبر کو شرانگیز فلم ''مسلمانوں کی معصومیت''جاری کی تھی۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں امریکا میں بنی اس دل آزار فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ 21 ستمبر کو پاکستان کے مختلف شہروں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران بیس سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے دو روز پہلے اسلام مخالف فلم بنانے والے پچپن سالہ مارک بیسلے یوسف کو عبوری ضمانت کی خلاف ورزی اور عدالت کو دھوکا دینے کے جرم میں قصور وار قرار دے کرایک سال قید کی سزا سنائی ہے اور وہ اس وقت لاس اینجلس کی ایک جیل میں قید ہے۔



حاجی غلام احمد بلور کے علاوہ افغانستان کے مغربی صوبہ ہرات سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین میر فاروق حسینی نے بھی اسلام مخالف فلم کے پروڈیوسر کو قتل کرنے والے شخص کو تین لاکھ ڈالرز اور توہین آمیز خاکے بنانے والے فرانسیسی کارٹونسٹ کو قتل کرنے والے کو ایک لاکھ ڈالرز انعام کے طور پر دینے کا اعلان کیا تھا۔