.

یو این کے زیر اہتمام دنیا بھر میں ملالہ ڈے منایا جا رہا ہے

ملالہ کو نوبل انعام دلوانے کے حق میں دستخطی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں آج [دس نومبر] کو 'ملالہ ڈے' منایا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر میں ملالہ کی صحت یابی کے لئے مساجد میں دعائیں اور مختلف شہری انجمنیں تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ قومی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں ملالہ کی تعلیم سے محبت اور جرات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے تعلیم اور سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ ملالہ نے دنیا بھر کے بچوں کو حصول تعلیم کیلیے حوصلہ بخشا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جمعہ کے روز اپنے ویڈیو پیغام میں ملالئے یوسفزئی سے منسوب دن منانے کا اعلان کیا۔ انکا کہنا تھا کہ ملالئے نے سوات سمیت پورے پاکستان کی لڑکیوں کی تعلیم کے لئے جدوجہد کی جو پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔

ادھر، برمنگھم سے ملالئے نے اپنے والد کی زبانی ایک پیغام میں دنیا بھر کے لوگوں کا اپنی حمایت اور تائید پر شکریہ ادا کیا ہے۔

پندرہ سالہ ملالئے یوسفزئی طالبان کی جانب سے سر پر گولی مارے جانے کے بعد برطانیہ کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے طالبان کے خلاف آواز بلند کی اور سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی پُرجوش حامی رہیں۔

دوسری جانب ایوان صدر اسلام آباد میں وسیلہ تعلیم کی تقریب سے خطاب میں اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے تعلیم گورڈن براؤن نے ملالئے یوسفزئی کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا ملالئے نے دنیا بھر کے بچوں کو حصول تعلیم کیلیے حوصلہ بخشا ہے۔ گورڈن براؤن بچوں بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں تین روزہ دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

براؤن نے ملالئے کے لئے دس لاکھ سے زائد دستخطوں کے ساتھ ایک پٹیشن بھی پیش کی ہے جس میں دستخط کرنے والوں نے ملالئے یوسفزئی کو تعلیم کے فروغ کے لئے کردار ادا کرنے پران کی حمایت کی ہے۔

اس موقع پر پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بچوں کی تعلیم کا فرض پورا نہ کیا تو تاریخ معاف نہیں کرےگی۔ صدر مملکت نے زور دیا کہ بچوں کی تعلیم کےحوالے سے صوبائی حکومتوں کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس موقع پر فروغ تعلیم کے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

ملالہ کو نوبل انعام کے لئے دستخطی مہم

داریں اثنا ہزاروں برطانوی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملالئے یوسف زئی کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جائے۔

مہم کی رہنما شاہدہ چوہدری نے گلوبل پیٹیشن پلیٹ فارم کے ایک بیان میں کہا کہ ملالہ کسی ایک عورت کو نہیں بلکہ ان تمام افراد کی نمائندگی کرتی ہیں جنہیں صرف جنس کی بنیاد پر تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ملالئے کو نوبل انعام دلوانے کے لیے تیس ہزار سے زائد افراد اس پیٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں۔ اسی طرح کی مہمات کینیڈا، فرانس اور اسپین میں بھی جاری ہیں۔

نوبل کمیٹی کے قوانین کے تحت معروف شخصیات جیسے کہ قومی اسمبلی اور حکومتی ارکان انعام کے لیے نامزد ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ ماہ یورپین یونین کو امن اور جمہوریت کے فروغ پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔