.

پاکستان میں قید طالبان کی رہائی، سمجھوتے کا خیر مقدم

امن عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت پر ملا عبدالغنی کی رہائی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن طالبان کے ایک عہدے دار نے اس اقدام کو افغانستان میں قیام امن سے غیر متعلق قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستانی حکومت اور افغان امن کونسل کے درمیان طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق سمجھوتا بدھ کو اسلام آباد میں طے پایا تھا لیکن اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اس سمجھوتے کے تحت گذشتہ دو روز میں پاکستان میں زیر حراست تیرہ طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ''ہم اس اقدام کو افغانستان میں امن عمل کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے کر اس کا خیرمقدم کرتے ہیں''۔ افغان حکومت پاکستان سے زیر حراست سنئیر طالبان لیڈروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس طرح جنگ زدہ ملک میں گذشتہ گیارہ سال سے جاری خونریزی کے خاتمے اور قیام امن میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب طالبان کے ایک عہدے دار نے اس ڈیل کو ایک علامتی اظہاریہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ اس اجلاس میں کچھ ہوا تھا۔

اس عہدے دار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جن لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی طرح طالبان کے ارکان نہیں ہیں۔ ان کو مسترد کیا جا چکا ہے اور وہ طالبان کی صفوں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے''۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان افغان حکومت کے مقرر کردہ اعلیٰ امن کونسل سے رابطے میں نہیں تھے اور اس ضمن میں کوئی بھی بات چیت ان کے اور امریکا کے درمیان براہ راست ہونی چاہیے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز نے اطلاع دی ہے کہ اگر نچلے درجے کے طالبان کی رہائی سے افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے تو پاکستان طالبان کے نائب کمان دار ملا عبدالغنی برادر کو رہا کرنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔

اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ مذاکرات سے جانکاری رکھنے والے ایک سنئیر افغان عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ گذشتہ دو روز میں ''تیرہ طالبان کی رہائی کے بعد پاکستان نے ملا عبدالغنی برادر کو رہا کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے''لیکن پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے اس کی شرط یہ بتائی ہے کہ اوّل الذکر طالبان کی رہائی افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے 2010ء میں پاکستانی انٹیلی جنس سروسز (آئی ایس آئی) اور سی آئی اے کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تب سے پاکستانی حکام کے زیر حراست ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کہاں رکھا جا رہا ہے۔

ملا برادر طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے دست راست رہے تھے۔ وہ ماضی میں افغانستان پر قابض غیر ملکی فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ کی قیادت کرتے رہے تھے۔ افغان حکام کو توقع ہے کہ ملا بردار ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان کے ساتھ امریکا نے ماضی میں قطر اور دوسرے مقامات پر مذاکرات کے متعدد دور کیے تھے لیکن امریکی حکام مذاکرات میں طالبان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے تھے اور طالبان نے امریکی حکام پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے جن اقدامات کا وعدہ کیا تھا، ان کو عملی جامہ نہیں اپنایا۔ طالبان نے گوانتانامو بے کے عقوبت خانے میں اسیر اپنے چھے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن امریکا نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں تھا جس کے بعد مارچ میں ان کے درمیان مذاکرات منقطع ہو گئے تھے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد اب افغان حکومت خود طالبان کے ساتھ اپنے چینل بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ طالبان یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء تک مذاکرات نہیں کریں گے۔

امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے اپنی فوجوں کے مکمل انخلاء کا اعلان کر چکے ہیں لیکن اس سے قبل وہ افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کا جنگ زدہ ملک سے انخلاء آبرو مندانہ ہو اور غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں طوائف الملوکی کے بجائے امن کا دور دورہ ہو۔ مگر غیر ملکی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان کی امن عمل میں شرکت کے بغیر جنگ زدہ ملک میں قیام امن ایک خواب نظر آ رہا ہے اور بظاہر افغانستان میں حالات کی بہتری کے کم امکانات ہیں۔