.

پاکستان میں پانچ برسوں میں پہلی پھانسی کی سزا

پھانسی کی سزا پر غیر سرکاری پابندی کے باوجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پانچ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایک سابق فوجی کو اپنے ساتھی اہلکار کے قتل کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ جمعرات کو وسطی پنجاب کی جیل میانوالی میں انجام دی گئی پھانسی کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔

پھانسی کی سزا پانے والے محمد حسین کا تعلق پنجاب کے ضلع ساہیوال سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے دو ہزار نو میں اپنے سینئر حوالدار خادم حسین کو کسی بات پر قتل کر دیا تھا۔

دو ہزار آٹھ میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پھانسی دیے جانے کا یہ پہلا موقع ہے۔ صدر آصف علی ذرداری کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اس سزا پر غیر سرکاری پابندی عائد کر دی تھی جس میں ہر تین مہینے بعد اضافہ کردیا جاتا تھا۔

جیل حکام کا کہنا ہے صدر پاکستان اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے محمد حسین کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ نیز مقتول کے ورثاء نے بھی محمد حسین کو معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے عہدیدار زمان خان نے پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے۔