.

کراچی اور کوئٹہ میں یکم محرم کو موٹر سائیکل چلانے پر پابندی

سندھ ہائی کورٹ نے پابندی کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی وفاقی حکومت ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی اور صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ ایک عرصے سے جاری خونریزی پر تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے قابو نہیں پا سکی لیکن اس نے وہاں دہشت گردی کے مزعومہ خطرے سے نمٹنے کا ایک حال یہ نکالا ہے کہ اس نے ان دونوں شہروں میں اسلامی سال کے پہلے دن یکم محرم الحرام (جمعہ کو) کو موٹر سائیکل چلانے پر ہی پابندی عاید کر دی ہے۔

ادھر رات گئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کو جمعہ کے روز صبح گیارہ بجے اپنی عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ اس عدالتی حکمنامے کے بعد کراچی اور کوئٹہ کے عوام شدید مخمصے کا شکار ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ ''ان دونوں شہروں میں سولہ نومبر کو صبح چھے بجے سے شام سات بجے تک کسی کو بھی سڑکوں پر موٹر سائیکل لانے کی اجازت نہیں ہو گی اور اس پابندی سے کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا''۔

وزیر داخلہ کے بہ قول وزارت کو ایسی خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ ان شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے اور اس کے لیے موٹر سائیکل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہریوں کے سر عام اسلحہ لے کر چلنے پر بھی پابندی ہو گی۔

وزارت داخلہ نے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو موقع پر ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔ عبدالرحمان ملک نے کہا کہ کراچی اور کوئٹہ میں صبح دس بجے سے شام چھے بجے تک موبائل فون سروس بند کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے اور اس ضمن میں حتمی فیصلہ صبح کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کراچی کی آبادی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اس شہر میں رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کی تعداد بارہ سے چودہ لاکھ ہے جبکہ کراچی میں چلنے والی دیگر شہروں میں رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے اور غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں اس پر مستزاد ہے۔ موٹر سائیکل چلانے پر پابندی سے لاکھوں شہریوں کو دفاتر اور کاروباری مراکز تک جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صوبہ سندھ میں پاکستان کی حکمراں پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) وغیرہ کی حکومت ہے لیکن انہی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں اور بعض فرقہ پرست جماعتوں پر کراچی میں قتل وغارت گری کے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔

حکومت ملک کے سب سےبڑے شہر میں امن وامان کی خراب صورت حال کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور نہ اس نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات کیے ہیں بلکہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے کراچی میں امن وامان کے قیام میں ناکامی کے بعد شہریوں کو بے رحم بھیڑیوں اور قاتلوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

کراچی میں امن وامان کی صورت حال کو خراب کرنے میں لسانی ومذہبی فرقہ پرست تنظیموں کے مسلح کارکنان اور قبضہ گیر گروپ ملوث ہیں لیکن صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ کراچی کے خراب حالات ریاست کی ناکامی نہیں بلکہ وہاں حالات خراب کرنا دہشت گردوں کی حکمت عملی کاحصہ ہے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا جا سکے۔

انھوں نے گذشتہ روز ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''دہشت گرد کراچی میں حالات خراب کر کے ہمیں الجھانا چاہتے ہیں اور وہاں ملک دشمن عناصر انتشار پھیلا رہے ہیں''۔ یوں انھوں نے یہ بیان دے کر خود کو بطور سربراہ ریاست بری الذمہ قرار دے لیا ہے۔