.

کراچی اہل تشیع کی مجلس کے نزدیک بم دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 23 زخمی

شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود اہل تشیع کی ایک مجلس کے قریب بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور تئیس زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں دس زخمیوں کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر امام بارگاہ مصطفیٰ کے نزدیک زوردار دھماکا ہوا ہے اور اس کے بعد وہاں اکٹھے ہونے والے افراد پر فائرنگ کی گئی جس سے دو افراد جاں بحق اور تئیس زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق بم دھماکا عباس ٹاؤن کے داخلی راستے کے نزدیک لگائے گئے بئیریر پر ہوا۔اس شاہراہ کو دونوں جانب سے بند کردیا گیا تھا۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے لیے چھے کلوگرام بارود استعمال کیا گیا ہے اور یہ ایک موٹر سائیکل کے ساتھ نصب تھا۔

زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ کراچی شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں پھیل گیا اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے فائرنگ کی تھی اور اس کے بعد احتجاج شروع کردیا۔اس سے امدادی اداری کو اپنی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

صدرِ آصف علی زرداری نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور زخمیوں کو بہتریں طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ مجلس وحدت المسلمین نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ناقص سکیورٹی کو اس کا ذمہ دار قراردیا ہے۔

وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے کراچی میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اورکہا ہے کہ اس طرح کے حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کا عزم متزلزل نہیں ہو گا اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رکھی جائے گی۔