.

پاکستان کے 50 شہروں میں موبائل فون سروس دو دن کے لیے بند

نویں اور دسویں محرم کو دہشت گردی کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
حکومت پاکستان نے ملک کے چھوٹے بڑے پچاس شہروں اور آزاد کشمیر میں نویں اور دسویں محرم کو دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے جمعہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون سروس کو چاروں صوبائی حکومتوں اور آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر معطل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہفتہ اور اتوار کو صبح چھے بجے سے رات دس بجے تک موٹر سائیکل کی سواری پر بھی پابندی ہو گی۔

انھوں نے بتایا کہ موبائل فون سروس کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے تفصیلی بات چیت کے بعد شہروں اور قصبوں کی فہرست کو حتمی شکل دی گئی ہے۔بعض شہروں میں لینڈلائن فون بھی دو دن کے لیے بند رہیں گے۔

ان کے بہ قول پنجاب حکومت نے پندرہ شہروں اور قصبوں میں سروس معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان شہروں میں راول پنڈی، لاہور، ملتان، سرگودھا، اٹک ،جھنگ، رحیم یار خان، فیصل آباد، ننکانہ صاحب، بھکر، ڈیرہ غازی خان ،مظفر گڑھ ،پاک پتن اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔

بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، قلات کوہلو، ڈیرہ بگٹی، خضدار، تربت، مستونگ، گوادر، پنجگور اور حب میں دو روز کے لیے موبائل فون سروس معطل رہے گی۔سندھ کے شہروں کراچی ،حیدر آباد، لاڑکانہ، خیرپور اور نوشہرو فیروز میں موبائل فون سروس کو عارضی طور پر بند کیا جارہا ہے۔کراچی اور حیدر آباد میں جمعہ کو بھی دن کے وقت موبائل فون بند رہے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں ہنگو اور کوہاٹ میں جمعہ سے اور ہفتہ سے پشاور، مردان ، چارسدہ ،نوشہرہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، مانسہرہ اور ہری پور میں معطل رہے گی۔آزاد کشمیر کے شہروں مظفر آباد، راولاکوٹ میرپور، کوٹلی اور ضلع وادی نیلم اور گلگت،بلتستان میں گلگت شہر میں موبائل فون سروس معطل رہے گی۔

حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی 6 اور جی 9 میں بھی موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نویں محرم کی صبح چھے بجے سے دسویں محرم کی رات دس بجے تک بند ہو گی جبکہ پی ٹی سی ایل وی فون بھی اس عرصے میں بند رہیں گے۔

عبدالرحمن ملک نے کہا کہ ملک بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کے پیش نظر اخبار تقسیم کرنے والے اپنا کام صبح چھے سے دس بجے تک مکمل کر لیں۔تاہم انھیں سروس کارڈز اور دیگر کاغذات اپنے پاس رکھنا ہوں گے۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ محرم کے دوران سیکورٹی انتظامات کے لیے پولیس اور رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو فوج کو طلب بھی کیا جا سکتا ہے۔ان کے بہ قول محرم کے جلوسوں کے انعقاد اور ان کے بعد سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی دہشت گردی کے خطرے سے بچنے کے لیے بعض بڑے شہروں میں موبائل فون سروس بند کر دی تھی لیکن عاشورہ محرم میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح ملک بھر میں پچاس سے زیادہ شہروں میں موبائل فون بند کیے جا رہے ہیں۔

عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماضی میں بموں کے نوے فی صد دھماکے سیل فونز کے استعمال کے ذریعے کیے گئے تھے۔اس لیے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اب موبائل فون بند کیے جا رہے ہیں۔