.

پاکستان کے سنئیر صحافی کی کار سے طاقتور بم برآمد

ملزموں سے متعلق معلومات کی فراہمی پر پانچ کروڑ روپے انعام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سنئیر صحافی، معروف کالم نگار اور نجی ٹی وی کے مقبول ٹاک شو کے میزبان حامد میر کی کار سے طاقتور بم برآمد ہوا ہے۔ حکومت نے بم نصب کرنے والے ملزموں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے اسلام آباد میں سنئیر صحافی حامد میر سے ان کے گھر میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''کار میں دھماکا خیز مواد نصب کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کار میں نصب کیا گیا دھماکا خیز مواد انتہائی طاقتور تھا''۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالرحمان ملک نے کہا کہ ''حامد میر کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی طرف سے صحافیوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں''۔

وزیر داخلہ نے چند روز قبل صوبہ بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر خضدار کے پریس کلب کے صدر کے قتل کی تحقیقات کے لیے بھی ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس ٹیم میں صحافیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حامد میر کو طالبان جنگجوؤں کی جانب سوات میں ان کے حملے کا نشانہ بننے والی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی کوریج کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔وہ حکومت کے بھی سخت ناقد ہیں۔ پاکستان کی صحافتی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے سنئیر صحافی کی کار میں بم نصب کرنے کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔

حامد میر نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں واقع ایک مارکیٹ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ کار کھڑی کر کے تھوڑی دیر کے لیے کسی کام سے گئے اور واپس آئے تو انھیں قریب کھڑی گاڑی کے ڈرائیور نے ایک شاپنگ بیگ کے پڑے ہونے کی اطلاع دی۔ اس پر انھوں نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو اطلاع دی اور اس نے موقع پر پہنچ کر بم کو ناکارہ بنا دیا۔ بم آدھا کلو وزنی تھا۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ''وہ حق اور سچ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے۔خوش قسمتی سے کسی نقصان سے پہلے ہی دھماکا خیز مواد کا پتا چل گیا۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد اس جگہ رکھا گیا جہاں وہ بیٹھتے ہیں''۔

واضح رہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ملکوں میں سے ایک ہے اور یہاں صحافیوں کو انتہا پسند اور جنگجو گروپوں کی جانب سے آئے دن قتل کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں اور اب تک بیسیوں صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ چند روز قبل ہی خضدار پریس کلب کے صدر کو نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا تھا۔ انھوں نے حامد میر کو اپنی ناگہانی موت سے قبل ایک خط لکھا تھا اور انھوں نے اس خط کو اپنے کالم میں شائع کیا تھا۔ اس میں مقتول نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انھیں قتل کیا جا سکتا ہے۔