.

حامدمیر پر بم حملے کی سازش،طالبان نے ذمے داری قبول کر لی

طالبان ترجمان سے متعلق اطلاع پر 20 کروڑ روپے انعام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے سنئیر صحافی اور مقبول ٹی وی میزبان حامد میر کی کار کے ساتھ دھماکا خیز مواد نصب کرنے کی ذمے داری قبول کرلی ہے اور انھیں دوبارہ قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انھیں بچا لیا ہے لیکن ہم اسی طرح کی کوشش ایک مرتبہ پھر کریں گے''۔

ترجمان نے کہا کہ '' وہ (حامد میر) پہلے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں کام کرتے رہے تھے اور اس سے انھیں شہرت ملی تھی لیکن اب وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم نے انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے''۔

وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا یہ بیان منظر عام پر آنے کے بعد ان سے متعلق اطلاع دینے والے کو بیس کروڑ روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ جلد احسان اللہ احسان کے بارے میں اصل حقائق منظر عام پر لائیں گے۔ ان کے بہ قول وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بیرونی عناصر کے اشارے پر کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب ملک کی معروف دینی سیاسی شخصیت اور طالبان کے قریب سمجھے جانے والے مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان کے لیڈروں میں احسان اللہ احسان نام کا کوئی بندہ نہیں ہے۔انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر پر بم حملے کی سازش کرنے والوں کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں۔

سوموار کو دارالحکومت اسلام آباد میں نجی ٹی وی چینل جیو کے مقبول ٹاک شو کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر کی کار کے ساتھ نصب طاقتور بم برآمد ہوا تھا۔حکومت نے بم نصب کرنے والے ملزموں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

حامد میر اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں واقع ایک مارکیٹ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ کار کھڑی کر کے تھوڑی دیر کے لیے کسی کام سے گئے۔ وہ وہاں سے سیکٹر ای الیون میں واقع اپنے گھر واپس آئے تو انھیں ان کے ہمسایوں کے ڈرائیور نے ایک شاپنگ بیگ کے کار کے نیچے لٹکے ہونے کی اطلاع دی۔ اس پر انھوں نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو اطلاع دی اور اس نے موقع پر پہنچ کر بم کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ بم آدھا کلو وزنی تھا اور اسے مقناطیس کے ساتھ کار کے ساتھ لگایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''وہ حق اور سچ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے۔ خوش قسمتی سے کسی نقصان سے پہلے ہی دھماکا خیز مواد کا پتا چل گیا۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد ڈرائیور کے ساتھ والی نشست کے نیچے لگایا گیا تھا اور وہ اسی نشست پر بیٹھتے ہیں''۔

واضح رہے کہ حامد میر کو طالبان جنگجوؤں کی جانب سوات میں ان کے حملے کا نشانہ بننے والی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی نمایاں کوریج کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ وہ حکومت کے بھی سخت ناقد ہیں۔ ماضی میں ان کے اسلامی جماعتوں اور جہادی تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط رہے تھے اور وہ خود کو آزاد مگر دائیں بازو کے قریب صحافی قرار دیتے ہیں اور فاشسٹ لبرلز اور مادر پدر آزاد دانشوروں پر اپنے کالموں میں کڑی تنقید کرتے رہتے ہیں۔

انھوں نے نائن الیون حملوں کے فوری بعد افغانستان میں القاعدہ کے (اب مقتول) لیڈر اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تھا۔ اس وقت وہ اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک روزنامے کے ایڈیٹر تھے۔ پاکستان کی صحافتی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے ان کی کار کے ساتھ بم نصب کرنے کے واقعہ کی مذمت کی ہے اور اسلام آباد میں صحافیوں نے اس واقعہ کے خلاف آج احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور بدھ کو بھی دارالحکومت میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بُک پر ان کے مخالف لکھاریوں اور بعض صحافیوں نے اس واقعہ کو ملالہ پر حملے کی طرح کا ایک ڈراما قرار دیا ہے اور ان کی ذات پر رکیک حملے کیے ہیں۔