.

وانا مین طالبان کا اپنے ہی کمانڈر مولوی نذیر پر خودکش حملہ

سات افراد دھماکے میں ہلاک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک خود کُش حملے میں کم از کم سات افراد مارے گئے ہیں۔ بارہ زخمیوں میں اہم جنگجو سردار ملا نذیر بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی حکام کے مطابق مُلا نذیر کی کار کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں نشانہ بنایا گیا۔ خود کش حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا۔

مولوی نذیر وزیر کو ملا نذیر کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کا شمار جنوبی وزیرستان کے اہم جنگجو سرداروں میں ہوتا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ملا نذیر گروپ کے سینکڑوں عسکریت پسند افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

پاکستان کے ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور عسکریت پسندوں کی طرف سے بازار کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

فوری طور پر یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور ملا نذیر کی اس وقت حالت کیا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس دھماکے کی شدت اور ہلاکتوں کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملا نذیر بھی شدید زخمی ہوئے ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ نذیر بم دھماکے سے پہلے ہی کار سے باہر نکل گئے تھے۔

ملا نذیر کے ایک ترجمان مولانا عامر نواز کا کہنا ہے، ’’دھماکے نے نذیر کی گاڑی کو تباہ کر دیا ہے۔ سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہیں۔‘‘ عامر نواز کے مطابق ملا نذیر کو معمولی زخم آئے ہیں۔

جمعرات کے خودکش حملے کے ہدف ملا نذیر کو افغان طالبان کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے اور وہ سن 2007ء میں حکومت پاکستان کے ساتھ امن معاہدہ کر چکے ہیں۔ ملا نذیر گروپ کی ماضی میں بھی کئی مرتبہ دیگر طالبان گروپوں سے مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

قبائلی عمائدین کے مطابق نذیر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بجائے افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف حملوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھے اور یہ بات پاکستانی طالبان کے قیادت کے اندر ایک متنازعہ مسئلہ تھی۔

پاکستانی حکومت نے ملا نذیر سے اُن جنگجوؤں کو علاقہ بدر کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا، جو پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔ ملا نذیر پر پہلے بھی کئی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔