.

مشرف سے اتحاد سیاسی خودکشی ہو گی عمران خان کا العربیہ کو انٹرویو

انتخابی کامیابی کے بعد امریکا کے دوست ہوں گے، غلام نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق جنرل صدر پرویز مشرف سے سیاسی اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ ملک میں گذشتہ برسوں کے دوران ہونے والی خونریزی کے ذمے دار ہیں اور ان سے اتحاد سیاسی خودکشی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ''انتخابی کامیابی کی صورت میں ہم امریکا کے دوست ہوں گے اور اس کے غلام بننے نہیں جا رہے ہیں''۔

عمران خان نے ان خیالات کا اظہار العربیہ انگلش کے ایڈیٹر انچیف فیصل جے عباس کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ شام میں جاری خونریزی کے حوالے سے سوال پر عمران خان کا کہنا ہے کہ ''میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی سربراہ ریاست اپنے ہی لوگوں کو قتل کر سکتا ہے''۔

کرکٹ کے میدان میں اپنی کامیابیوں سے چار دانگ عالم شہرت پانے والے عمران خان گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے پاکستان کی سیاست میں فعال ہیں۔ انھوں نے نوے کے عشرے میں تحریک انصاف قائم کی تھی اور بے لاگ احتساب اور نوجوانوں کے ذریعے انقلاب کا نعرہ دیا تھا۔

عمران خان کو کھیل کے میدان کے برعکس سیاست میں مختلف لوگوں سے سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ بڑی امیدوں اور بلند بانگ نعروں کے ساتھ سیاست میں آئے تھے لیکن اس میدان میں ان کا مقابلہ روایتی جاگیردار اور سرمایہ دار سیاست دانوں سے ہے۔ ایک وقت تو وہ ان کی سیاسی چالوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

اب بہت سے روایتی سیاست دان ان کے ہم رکاب ہیں لیکن ان لوگوں کی تحریک انصاف میں شمولیت سے عمران خاں کی شخصیت سے متاثر ہو کر ان کے قافلے میں شامل ہونے والے نوجوان کچھ مایوس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ انھیں ملک سے ہمہ نوع بدعنوانیوں کے خاتمے کی اب کوئی امید نہیں رہی ہے اور وہ انھی سیاست دانوں کو ملک وقوم کو درپیش مسائل کا حقیقی ذمے دار گردانتے ہیں۔

رائے عامہ کے مختلف جائزوں کے مطابق عمران خان آج کے پاکستان کے سب سے مقبول سیاست دان ہیں لیکن پاکستانی میڈیا انھیں روایتی سیاست دانوں کے مقابلے میں زیادہ لفٹ نہیں کراتا حالانکہ ان کی جماعت تمام جمہوری پیمانوں پر پورا اترتی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں جماعتی انتخابات کرائے ہیں اور پارٹی لیڈروں کے اثاثے بھی ظاہر کیے جبکہ جماعت اسلامی کے سوا ملک کی کسی بھی اور بڑی سیاسی جماعت نے ایسا نہیں کیا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ صرف ان کی جماعت ہی پاکستان میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ انھوں نے العربیہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ لوگ گذشتہ پانچ سال سے برسراقتدار پرانی سیاسی قیادت سے اکتا چکے ہیں کیونکہ اس قیادت نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

لیکن عمران خان پاکستان کے دوسرے لیڈروں کی طرح نہ تو فوج کے آدمی اور اس کے پیارے ہیں اور نہ ان کا بھٹو یا شریفوں ایسے کسی بڑے سیاسی خاندان سے تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس رائے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ آیا عمران خان آیندہ عام انتخابات میں اپنے انقلابی نعروں کو کیش کرا سکیں گے یا انھیں گذشتہ تین عام انتخابات کی طرح روایتی سیاست دانوں مقابلے میں شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔

سیاسی خودکشی

عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی ہے، وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی مرہون منت ہے۔ ان کے ڈانڈے سابق صدر سے جا کر ملتے ہیں۔ وہ اب جنرل مشرف کے بارے میں یہ سخت رائے رکھتے ہیں حالانکہ پرویز مشرف نے اکتوبر 1999ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان کو وزارت کی پیش کش تھی اور خود عمران بھی ابتدا میں ان کے گرویدہ رہے تھے لیکن بعد میں وہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کے مخالف ہو گئے تھے۔

پرویز مشرف نے اقتدار سے محروم ہونے کے چند سال کے بعد عمران خان کی جانب ایک مرتبہ پھر دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور گذشتہ ماہ ہی انھیں انتخابی اتحاد کی پیش کش کی ہے لیکن عمران خان نے اس پیش کش کو سیاسی خودکشی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی تین وجوہ بیان کی ہیں کہ وہ کیوں پرویز مشرف کے اتحادی نہیں بن سکتے۔ان کے بہ قول اس کی سب سے بڑی اور پہلی وجہ مشرف کے دورصدارت میں قومی مفاہمتی آرڈی ننس کا اجراء تھا۔اس کے نتیجے میں سابق بدعنوان ارباب اقتدار وسیاست کو عام معافی دے دی گئی تھی اور آصف علی زرداری اسی مفاہمتی آرڈی ننس سے معافی پاکر بعد میں ملک کے صدر بننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

عمران خان سابق صدر کوصوبہ بلوچستان کے بزرگ سیاست دان نواب اکبر بگٹی کے قتل کا ذمے دار قرار دیتے ہیں اور ان کے قتل کے ردعمل ہی میں رقبے کے اعتبار سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے میں بلوچ جنگجوؤں کی مزاحمتی سرگرمیوں اور ان میں لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دوراقتدار میں امریکا کے دباؤ پر ملک کے شمال مغربی علاقوں میں فوج کو جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھیج کر بڑی غلطی کی تھی اور ان کے نتیجے میں پچاس ہزار پاکستانی مارے جا چکے ہیں۔

امریکا سے مختلف تعلقات

آیندہ عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں عمران خان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ منتخب ہونے کی صورت میں سب سے پہلے پاکستان کو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے الگ تھلگ کرلیں گے اور پاکستان کی اس علاحدگی سے ہی ''جہادی سینڈروم'' کا خاتمہ ہو سکے گا۔

عمران خان پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں کے بھی شدید مخالف ہیں۔ وہ انھیں انسانی حقوق سے متعلق تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کا نشانہ بننے والوں میں بلاامتیاز سبھی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ان ڈرونز کو ہزاروں میل دور بیٹھ کر چلایا جاتا ہے اور ان کے میزائل حملوں میں جنگجوؤں کے ساتھ عام شہری بھی مارے جا رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

میں نے جب 2008ء میں عمران خان کا پہلی مرتبہ انٹرویو کیا تھا تو عمران خان امریکی صدر براک اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کے حوالے سے بہت خوش امید تھے۔ تب انھوں نے کہا کہ اگر اس خطے کو امریکی سیاست دانوں میں سے کوئی بہتر طور پر جان سکتا ہے تو وہ جو بائیڈن ہیں۔

میں نے جب عمران خان سے سوال کیا:'' کیا وہ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں؟'' اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ''اگرچہ اوباما اور جو بائیڈن کے دل بہتر جگہ پر ہی ہیں لیکن وہ جرنیلوں ،فوجی مشیروں کے نرغے ہیں اور وہ انھیں درست مشورے نہیں دیتے''۔

عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''وہ جنگ ہار رہے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو جیتنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی حمایت سے اب محروم ہو رہے ہیں۔ آج اوباما انتظامیہ کی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی کی وجہ سے امریکا مخالف شدید جذبات پائے جاتے ہیں اورامریکیوں کے خلاف زیادہ نفرت پائی جاتی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں ہزاروں افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ابھی تک جنگ کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ امریکا دشمن پالنے کے بجائے اپنے دوست پیدا کرے۔انھوں نے واضح کیا کہ ''ہم امریکا کے دوست ہوں گے اور اس کے غلام بننے نہیں جا رہے ہیں''۔

شام، بھارت اور کرکٹ

عمران خان نے شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ '' میں جمہوریت میں یقین رکھتا ہوں۔ میں ان آمریتوں پہ یقین نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب امریکا نواز آمروں کی بات آتی ہے تو معاملہ اور طرح کیا جاتا ہے اور جب اس کے مخالفین کی بات آتی ہے توان کےسا تھ مختلف انداز سے نمٹا جاتا ہے۔یہ دُہرا معیار ہے۔ شام اور لیبیا اس کی مثالیں ہیں۔

بعض مبصرین کی رائے تھی کہ عمران خان شاید شامی صدر بشار الاسد کے خلاف میڈیا میں بات کرنے پر رضامند نہ ہوں لیکن شام میں جاری خونریزی کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ''میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی سربراہ ریاست اپنے ہی لوگوں کا قتل عام کر سکتا ہے''۔

عمران خان نے پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کو طے کرنے کے قریب آ گئے ہیں۔

ان کی تجویز تھی کہ دونوں ممالک کو یورپی ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تصفیہ طلب امور کو سیاسی طور پر طے کرنے کے لیے پیش رفت کرنی چاہیے اور آزادانہ تجارت کے لیے اپنی سرحدیں کھولنی چاہئیں۔

انھوں نے کرکٹ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں کھیلوں کے ڈھانچے کو از سر نو ترتیب دیں گے اور مقامی ٹیلنٹ کو سامنے لائیں گے تاکہ قومی ٹیم کو ناقابل شکست بنایا جا سکے۔