.

لاہور میں مسیحی امدادی ادارے کی سویڈش ملازمہ پر فائرنگ

72 سالہ خاتون سینے میں گولی لگنے کے بعد اسپتال داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسیحی خیراتی ادارے کی سویڈش ملازمہ کو گولی مار دی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے سویڈن سے تعلق رکھنے والی بہتر سالہ برگیٹا عالمبی پر لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک مارکیٹ کے قریب فائرنگ کی ہے۔اس وقت وہ اپنے دفتر سے واپسی کے بعد گھر میں داخل ہو رہی تھیں۔

ایک مقامی اسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ''خاتون کو چھاتی میں گولی ماری گئی تھی۔ہم ان کا علاج کررہے ہیں اور ان کی حالت بہتر ہورہی ہے''۔اس خاتون پر حملے کے بارے میں مزید کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

پولیس اور اس خاتون کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ''فل گوسپل اسمبلیز''نامی ادارے کی میجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ یہ ادارہ امریکا میں قائم ہے اور اس کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں۔

یہ ادارہ پاکستان میں ایک فنی تربیتی مرکز ،تعلیم بالغاں کے مرکز اور یتیم خانے سمیت مختلف ادارے چلا رہا ہے۔ عالمبی پاکستان میں گذشتہ اڑتیس سال سے رہ رہی ہیں۔

لاہور کو پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا جاتا ہے اور اس شہر میں دہشت گرد حالیہ برسوں میں متعدد بڑے حملے کر چکے ہیں اور اس شہر سے غیرملکی اداروں کے ملازمین کو بھی اغوا کیا جا چکا ہے۔ گذشتہ سال اگست میں مسلح افراد نے ایک اکہتر سالہ امریکی وارن وین اسٹین کو ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر اغوا کر لیا تھا اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ انھیں اغوا کار بدامنی کا شکار ملک کے شمال مغربی پہاڑی علاقے کی جانب لے گئے تھے اور اس وقت وہ القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے زیر حراست ہیں۔ اپریل میں جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں برطانوی ریڈکراس کے مسلم ورکر کو اغوا کے چار ماہ کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔