.

شمالی وزیرستان امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کمانڈر کی ہلاکت

افغان سرحد کے نزدیک واقع علاقے پر ڈرونز کی پروازیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں القاعدہ کے ایک سنئیر کمانڈر سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے نزدیک واقع ایک گاؤں ٹبی میں ایک مکان پر میزائل داغا ہے۔اس حملے میں القاعدہ کے کمانڈر محمد احمد المنصور سمیت چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے میں گذشتہ تین روز میں القاعدہ کے یہ دوسرے کمانڈر کی ہلاکت ہے۔

علاقے کے مکنیوں اور سرکاری حکام کی اطلاع کے مطابق القاعدہ کے مقتول کمانڈر میزائل کا نشانہ بننے والے مکان کے اندر موجود تھے اور حملے کے وقت چار ڈرونز کو فضا میں پروازیں کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ فوری طور پر حملے میں مارے گئے دوسرے تین افراد کی شناخت یا قومیت معلوم نہیں ہو سکی۔

شمالی وزیرستان کا گاؤں ٹبی افغان سرحد کے نزدیک واقع ہے اور اس میں مختلف جنگجو گروپوں کے ٹھکانے بتائے جاتے ہیں۔علاقے سے متعلق معلومات رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں طالبان کے کمانڈر حافظ گل بہادر اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اپنی کمین گاہیں بنا رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا حافظ گل بہادر گروپ پر سرحد پار افغانستان میں قابض غیر ملکی فوجوں پر حملوں کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے۔ اس گروپ سے وابستہ زیادہ تر جنگجوؤں کے شمالی وزیرستان میں ٹھکانے بتائے جاتے ہیں اور خود حافظ گل بہادر نے بھی اسی علاقے میں اپنا مرکز قائم کر رکھا ہے۔