.

پاکستان نے شام سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا

دمشق کے نواح میں بم دھماکے میں 16 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان نے شام میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے جبکہ شامی دارالحکومت دمشق میں ایک کار بم دھماکے میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ''ہم نے دمشق میں متعین پاکستانی سفیر سمیت اپنے عملے کو عارضی طور پر واپس بلا لیا ہے اور تمام عملہ وطن پہنچ چکا ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ دمشق میں سفارت خانے کو بند نہیں کیا گیا۔ تاہم شام میں حالات معمول پر آنے کے بعد سفارتی عملے کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

دمشق میں بم دھماکا

ادھر دمشق میں ایک فوجی کمپلیکس کے نزدیک کار بم دھماکے کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ رات وزارت داخلہ کے مرکزی دروازے کے باہر بم دھماکے میں شامی وزیر داخلہ زخمی ہو گئے تھے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کی مطابق دمشق کے نواح میں آرمی کے ایک رہائشی کمپلیکس اور ایک ایلمینٹری اسکول کے نزدیک کار میں نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' نے دہشت گردوں پر فوج کے رہائشی علاقے قطانہ میں بم دھماکے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ''آج صبح دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی سے راس النبعا کے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا ہے اور اس کو میخائل سمعان اسکول کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا ہے''۔

اس بم حملے سے قبل دمشق میں رات وزارت داخلہ کے باہر کار بم دھماکے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور وزیر داخلہ محمد ابراہیم الشعار سمیت متعد زخمی ہو گئے تھے۔

وزارت داخلہ پر اس بم حملے کے حوالے سے شام کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کمزور سکیورٹی کا نتیجہ ہو سکتا ہے کیونکہ وزارت کے مرکزی دروازے تک کسی سرکاری گاڑی کے بغیر پہنچنا ناممکن ہے۔ بم دھماکے میں زخمی ہونے والے وزیر داخلہ کی حالت خاطر سے باہر ہے اور انھیں اسپتال سے انھیں جلد فارغ کر دیا جائےگا''۔