.

پشاور ہوائی اڈے پر طالبان کا حملہ 4 شہری جاں بحق، 6 دہشت گردی ہلاک

ہوائی اڈا پروازوں کے لئے تا اطلاع ثانی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختون خوا کے صدر مقام پشاور میں باچا خان بین الاقوامی ایئرپورٹ کو ہفتے کی شب راکٹ حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار شہری افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی آر' کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔ ایئر پورٹ کے باہر سے خودکش جیکٹس پہنے دو دہشت گردوں کی لاشیں ملیں جبکہ تیسری خودکش جیکٹ کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

واضح رہے کہ اسی ایئرپورٹ پر پاکستانی فضائیہ کا اڈا بھی واقع ہے۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز میں استعمال ہونے والے گن شپ ہیلی کاپٹر پشاور ایئرپورٹ ہی سے اڑان بھرتے ہیں اور یہاں ہیلی کاپٹر تیار رہتے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کر لی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی بھی ایئرپورٹ کی عمارت سے ٹکرائی جس کے باعث شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے۔ پشاور ایئرپورٹ کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ آخری اطلاعات تک سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری تھا۔ فوج اور گارڈز کے الرٹ ہونے کے باعث دہشت گرد ایئرپورٹ میں داخل نہیں ہو سکے۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق دہشت گردوں نے گاوٴں آبدرہ کی جانب سے ایئرپورٹ پر حملہ کیا۔ حملے میں پاک فضائیہ کی تنصیبات اور اہلکاروں کو نقصان نہیں پہنچا۔ علاقہ کلیئر کرنے کیلئے تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے بارود سے بھری گاڑی ایئرپورٹ کی دیوار سے ٹکرائی جس کے بعد پانچ راکٹ داغے گئے۔ تین راکٹ ایئرپورٹ کی حدود کے اندر اور دو رہائشی علاقے میں گرے جس کے بعد دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے آس پاس کے کئی مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے۔

محکمہ شہری ہوابازی کے ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ پر آنے والی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے اور ایئرپورٹ پر اترنے اور اڑنے والی پروازوں کو روک دیا گیا ہے۔ پشاور آنے والی پروازوں کو لاہور یا اسلام آباد میں اتارا جا رہا ہے۔

واقعے کے بعد پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ زخمیوں کی زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ یاد رہے کہ اسی سال اگست میں کامرہ ایئر بیس پر مسلح حملہ کیا گیا تھا جس میں نو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔