.

وزیر اعظم راجا کا داماد غلط تقرر پر عدالت عظمیٰ طلب

عالمی بنک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی نامزدگی کا ازخود نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی جانب سے اپنے داماد راجا عظیم الحق کو عالمی بنک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر نامزد کرنے کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور داماد صاحب کو بہ نفس نفیس پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے راجا عظیم الحق کو عالمی بنک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر نامزد کرنے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور بدھ کو جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی ہے۔ عدالت نے راجا عظیم الحق کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکرٹری خزانہ کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں اور کیس کی مزید سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔

وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے چند روز قبل اپنے صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی اوراہل امیدوار کے نام پر غور کرنے کے بجائے اپنے داماد کو پُرکشش مراعات کی حامل عالمی بنک کی اسامی پر نامزد کر دیا تھا۔ بعض اعلیٰ سرکاری عہدے داروں نے اس نامزدگی کی مخالفت کی تھی لیکن وزیر اعظم نے ان کے اعتراضات کو درخور اعتناء نہیں جانا۔ اس سے پہلے راجا عظیم الحق دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے چند ہی سال میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس میں پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ حکمران پیپلزپارٹی جب 2008ء میں بر سر اقتدار آئی تو راجا عظیم الحق انکم ٹیکس گروپ میں گریڈ اٹھارہ میں افسر تھے۔ دو سال قبل انھیں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ بیس میں ترقی دے کر ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشنز میں بھیج دیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی برطرفی کے بعد راجا پرویز اشرف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو انھوں نے اپنے داماد کو ترقی دے کر گریڈ اکیس میں پہنچا دیا اور اس وقت سے وہ اپنے خُسر کے دفتر یعنی وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں تعینات ہیں۔ اب انھیں عالمی بنک میں بھیجا جارہا تھا لیکن عدالت عظمیٰ ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کی اقربا نوازی اور میرٹ کی خلاف ورزی کے آڑے آگئی ہے اور اس نے اس نامزدگی کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔قرائن بتاتے ہیں کہ موصوف کا تنزل کر کے انھیں دوبارہ انکم ٹیکس گروپ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خزانہ نے وزیر اعظم کے داماد کی عالمی بنک کے عہدے کے لیے نامزدگی کی مخالفت کی تھی حالانکہ ان کے تقرر کی سمری اقتصادی امور ڈویژن نے تیار کی تھی لیکن پھر وزارت خزانہ نے بھی وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے دباؤ یا منشاء کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔