.

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران پولیو مہم کے 6 ورکرز قتل

'معذوری سے بچانے کی لگن میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں مسلح حملہ آوروں نے پولیو قطرے پلانے مہم میں شریک چھے ہیلتھ ورکرز کو قتل کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق ہلاکتوں کے ان مختلف واقعات کے بعد پاکستان میں پولیوکے خلاف جاری عالمی مہم کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور نائجیریا وہ تین ممالک میں جہاں پولیو ابھی موجود ہے لیکن مقامی تشویش کی بناء پر پولیو مہم کو ان ملکوں میں ہمیشہ دشواری کا سامنا رہا ہے۔

فی الحال یہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں کہ ان پر تشدد واقعات کے پس پردہ کون تھا تاہم طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے متعدد مرتبہ دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ وہ پولیو مہم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ طالبان کے مطابق یہ ایک مغربی مہم ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا میں صرف تین ممالک میں پولیو کے نئے کیس سامنے آئے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے صرف تین ممالک میں ابھی یہ وائرس موجود ہے

عالمی ادارہ برائے صحت اور اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں ان واقعات کی سختی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے ذریعے پاکستان کے سب سے غیر محفوظ طبقے خصوصا بچوں کی زندگی اور بنیادی صحت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان واقعات کے بعد پاکستان کے دو صوبوں سندھ اور خیبر پختونخوا میں یہ ویکسینیشن مہم معطل کر دی گئی ہے۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے تجارتی مرکز کراچی جہاں تقریبا 18 ملین افراد آباد ہیں، چار مختلف علاقوں میں چار ہیلتھ ورکرز کو منگل کے روز قتل کیا گیا۔ پیر کے روز بھی کراچی میں ایک ہیلتھ ورکر کو قتل کر دیا گیا تھا۔

ادھر پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے مقامی سطح پر پولیو مہم کی نگرانی کرنے والی ایک 17 سالہ لڑکی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔