.

پاکستانقومی اسمبلی میں متنازعہ فئیر ٹرائل بل منظور

مجوزہ بل میں ن لیگ کی33 اور ایم کیوایم کی 31 ترامیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے دہشت گردوں کو پکڑنے اور ان سے تفتیش سے متعلق متنازعہ فئیر ٹرائل بل کی منظوری دے دی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے گذشتہ ہفتے''تفتیش برائے فئیر (شفاف) ٹرائل ایکٹ 2012ء'' کے نام سے اس متنازعہ بل کی منظوری دی تھی اور جمعرات کو ا س بل کو وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نواز اور حکومت کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ نے مجوزہ بل میں اپنی متعدد ترامیم پیش کی تھیں اور ان کو بھی بل کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔اس بل کو اب ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور اگر اس نے بھی اس کی منظوری دے دی تو یہ صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد قانون بن کر نافذالعمل ہو جائے گا۔

پی ایم ایل این اور ایم کیو ایم نے وزیرقانون کے پیش کردہ بل کے مندرجات پر اعتراضات کیے تھے اور دونوں نے اس میں بالترتیب تینتیس اور اکتیس ترامیم تجویز پیش کی تھیں۔ایم کیو ایم کے ارکان کا موقف تھا کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں سیاسی مقاصد کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کرسکتی ہیں۔لہٰذااس کی روک تھام ضروری ہے۔

حکومت کے مجوزہ اس بل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے منظوری کے بعد اس کے قانون کی شکل میں نفاذ سے عام شہریوں کی نجی زندگی کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں گے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار کسی بھی شہری کو مشتبہ قرار دے کر اس کے ٹیلی /موبائل فون ٹیپ کرسکیں گے اوروہ کوئی سے بھی دوافراد کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کو جدید آلات کے ذریعے مداخلت کرکے سن سکیں گے۔

لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ انسداد دہشت گردی کے مروجہ قوانین نہ تو جامع ہیں اور نہ ان کے تحت دہشت گردوں کو پکڑنے یا ان سے تفتیش کے لیے جدید آلات اور تیکنیکوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔حکومت کے بہ قول موجودہ قوانین کے تحت مشتبہ افراد کی خفیہ نگرانی نہیں کی جاسکتی،انسانی انٹیلی جنس کو بروئے کار نہیں لایا جا سکتا، ٹیلی فونک گفتگو کو ٹیپ نہیں کیا جاسکتا اور جدید آلات سے مواصلاتی مداخلت بھی نہیں کی جاسکتی حالانکہ امریکا ،برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک میں دہشت گردوں کے خلاف تفتیش کے لیے یہ آلات اور تیکنیکیں استعمال کی جارہی ہیں۔