.

شمالی وزیرستان امریکی ڈرون حملے میں چار افراد کی ہلاکت

جنوبی وزیرستان میں اہم طالبان کمانڈر سمیت پانچ افراد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں چار مشتبہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ افغان سرحد کے نزدیک واقع ایک اور قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقے حسوخیل میں ایک مکان پر دومیزائل داغے ہیں۔اس حملے میں پاکستان کے انٹیلی جنس حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فوری طور پر مہلوکین کی شناخت یا قومیت معلوم نہیں ہو سکی۔



اس حملے سے پہلے جمعہ کی صبح امریکا کا ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ایک غیر آباد علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ تاہم اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مقامی پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون کے گرنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

طالبان کمانڈر کی ہلاکت

جنوبی وزیرستان ہی میں ایک مارکیٹ میں طاقتور بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سرکردہ طالبان کمانڈر سمیت پانچ افراد ہلاک اور چھے زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا کی سبزی منڈی میں ایک زوردار دھماکا ہوا اور اس میں مقامی طالبان کمانڈر مولوی عباس وزیر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے غیر ملکی جنگجوؤں اور اسلامی تحریک ازبکستان سے قریبی تعلقات بتائے جاتے تھے۔

بم دھماکےکی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق دھماکا خیز مواد بازار میں نصب کیا گیا تھا جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل نے اطلاع دی ہے کہ ایک خودکش بمبار نے طالبان کمانڈر پر حملہ کیا ہے۔تاہم فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ دھماکے کے نتیجے میں بازار میں متعدد دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

بم دھماکے میں مقتول مولوی عباس وزیر سن 2004ء میں امریکا کے ڈرون حملے میں مارے گئے طالبان کمانڈر نیک محمد قابل اعتماد ساتھیوں میں سے تھے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دونوں ازبک، تاجک اور دوسرے غیرملکی جنگجوؤں کو جنوبی وزیرستان میں پناہ دیتے رہے تھے۔ مولوی عباس علاقے میں مولوی نذیر کی آمد اور بالادستی قائم ہونے کے بعد وہاں سے چلے گئے تھے۔

مولوی نذیر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے علاقے میں غیر ملکی جنگجوؤں کے صفایا کے لیے مہم شروع کی تھی۔ گذشتہ سال ان کے ساتھ ڈیل کے بعد مولوی عباس واپس جنوبی وزیرستان آ گئے تھے۔