.

سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور خودکش بم حملے میں جاں بحق

کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک خودکش بم حملے میں سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور سمیت آٹھ افراد جان بحق ہو گئے۔ کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے بشیر بلور احمد بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں دیگر 18 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بلور کا تعلق خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق بشیر احمد بلور کو اس حملے کے نتیجے میں سینے پر زخم آئے، جو جان لیوا ثابت ہوئے۔

مقامی حکام کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی میں ایک خودکش حملہ آور شامل ہوا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں بلور کے علاوہ ان کے سیکرٹری اور ایک سینیئر پولیس اہلکار بھی جان بحق ہوئے۔ واضح ہے کہ شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان اس سے قبل بھی اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سیاسی رہنماؤں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

بشیر احمد بلور کے بھائی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور بھی اس جلسے میں موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی کئے حملے ہو چکے تھے جن میں وہ بچ گئے تھے۔ حملے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

قومی سوگ کا اعلان

ادھر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور خیبر پختونخواہ کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کی وفات پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری سمیت ملک کے تمام نامور سیاستدانوں نے پشاور خودکش حملہ کی شدید مذمت کی اور اسکے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

بشیر بلور کا جسد خاکی اسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی نماز جنازہ بروز اتوار دو بجے کرنل شیر خان اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین سید پیر حسین روڈ پر واقع انکے آبائی قبرستان میں ہو گی۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے تین روزہ اور عوامی نیشنل پارٹی نے دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

درایں اثناء پیپلز پارٹی سندھ اور صوبائی حکومت نے ایک ایک دن کے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے تین دن روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اسکے علاوہ اے این پی بلوچستان نے کوئٹہ میں ہڑتال اور صوبے بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔