.

پاکستانی طالبان مذاکرات کے لیے تیار، غیر مسلح ہونے سے انکاری

ہمیں ہتھیار ڈالنے کے لیے کہنا مذاق ہے: حکیم اللہ محسود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن وہ غیر مسلح نہیں ہوں گے۔

پاکستانی نے جمعہ کو میڈیا کے لیے حکیم اللہ محسود کی چالیس منٹ کی ویڈیو جاری کی ہے۔ اس میں انھوں نے حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کی اور کہا ہے کہ ''ہم بات چیت میں یقین رکھتے ہیں لیکن یہ بے مقصد نہیں ہونی چاہیے اور ہمیں ہتھیار ڈالنے کے لیے کہنا ایک مذاق ہے''۔

اس ویڈیو میں حکیم اللہ محسود کے ساتھ ایک اور طالبان لیڈر قاری ولی الرحمان بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں پاکستانی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان کی راہیں جدا ہو چکی ہیں لیکن حکیم اللہ نے کہا کہ ''یہ سب پروپیگنڈا ہے۔ ولی الرحمان میرے ساتھ ہیں اور ہم اپنے مرنے تک اکٹھے ہی رہیں گے''۔

پاکستانی طالبان کا جمعرات کو ایک خط بھی منظر عام پر آیا تھا۔ اس میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کے قوانین اور آئین کو شرعی قوانین (شریعت) کے مطابق ازسرنو مرتب کیا جائے۔ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے اتحاد کو ختم کرے اور افغانستان میں جاری جنگ میں مداخلت کے بجائے بھارت پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

حکیم اللہ محسود نے اپنی ویڈیو تقریر میں پشاور میں صوبہ خیبر پختونخوا کے سنئیر وزیر بشیر بلور کی خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کا حوالہ بھی دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور دوسرے سیاست دانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم جمہوری نظام کے خلاف ہیں کیونکہ یہ غیر اسلامی ہے۔ ہماری جنگ کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ غیر اسلامی نظام اور اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ہے''۔

حکیم اللہ محسود کا کہنا تھا کہ''وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ماضی میں یہ پاکستانی حکومت تھی جس نے امن معاہدوں کو توڑا تھا۔ امریکا کا کوئی غلام آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتا۔اس نے امریکا کی منشا کے مطابق معاہدے توڑے تھے''۔

پاکستانی طالبان کے سربراہ نے افغان طالبان اور القاعدہ کے ساتھ اپنی بھرپور وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ''ہم افغان طالبان ہیں اور افغان طالبان ہم میں سے ہیں۔ ہم ان کے اور القاعدہ کے ساتھ ہیں۔ہم القاعدہ کے لیے اپنے سر کٹانے کو تیار ہیں''۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کی یہ ویڈیو کب اور کہاں ریکارڈ کی گئی تھی۔ حکیم اللہ محسود پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن دو ڈھائی سال پہلے ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد وہ اورکزئی ایجنسی میں منتقل ہو گئے تھے۔ اب ان کے نئے اور حالیہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

البتہ پاکستانی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے چند روز قبل ہی ان کے ٹھکانے کا پتا معلوم ہونے کا دعویٰ کیا تھا اوراس پر انھیں ہزیمت کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ صحافتی وسیاسی حلقوں کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر انھیں حکیم اللہ کے بارے میں سب پتا ہے تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

واضح رہے کہ امریکا نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔چند روز قبل وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے بھی طالبان جنگجوؤں کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ یہ بات چیت ہماری شرائط کے مطابق ہو گی۔

پاکستانی حکومت اور طالبان نے ایک دوسرے کو مذاکرات کی ایسے وقت میں پیش کش کی ہے جب امریکا افغانستان سے اپنی اور اپنے نیٹو اتحادیوں کے فوج کے انخلاء کو حتمی شکل دے رہا ہے اور وہ الگ سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اس کا جنگ زدہ ملک سے آبرومندانہ انداز میں انخلاء ممکن ہو سکے۔ امریکی عہدے دارماضی قریب میں پاکستان سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے طالبان جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ زیادہ اصرار کے ساتھ یہ مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔