.

پاکستان یرغمال نیم فوجی 21 اہلکار قتل کر دیئے گئے

طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستانی طالبان نے اپنے زیر قبضہ ان 21 نیم فوجی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے، جنہیں تین روز قبل پشاور کے نزدیک دو پیرا ملٹری چیک پوسٹوں پر عسکریت پسندوں کے ایک بڑے حملے کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔

پشاور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری ذرائع نے اتوار کے روز بتایا کہ حکام کو پیرا ملٹری لیویز کے 21 اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جبکہ دو اہلکار زندہ حالت میں بازیاب ہوئے ہیں۔ ان لاشوں کے ملنے کی مقامی حکومتی اہلکار نوید اکبر نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں اداے 'اے ایف پی' کے مطابق پاکستانی طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے ان سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں پشاور سے جنوب میں واقع جانی خوڑ اور حسن خیل کے علاقوں میں قائم ان کی چیک پوسٹوں سے قریب چار کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ویران جگہ سے ملیں۔ عسکریت پسندوں نے ان مغویوں کو گولیاں مارنے سے قبل ان کے ہاتھ باندھ دیے تھے۔

اس سے قبل پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا اور پھر ان کے قتل کا واقعہ اسی سال اگست میں پیش آیا تھا

اتنی بڑی تعداد میں نیم فوجی سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کا یہ واقعہ جمعرات کو دن چڑھنے سے قبل پیش آیا تھا جب قریب 200 عسکریت پسندوں نے، جو بھاری ہتھیارو‌ں اور مارٹر اور راکٹ لانچروں سے مسلح تھے، صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے قریب 35 کلو میٹر دور دو سکیورٹی کیمپوں پر یکدم حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں دو اہلکار مارے گئے تھے جبکہ 23 کو طالبان عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا۔ ان میں سے 21 افراد کی لاشیں ایک غیر آباد علاقے سے ملیں جبکہ جو دو مغوی اہلکار زندہ بازیاب ہوئے۔ ان میں سے ایک زخمی ہے اور دوسرے کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔

مقامی حکومتی اہلکار نوید اکبر کے مطابق قتل کیے گئے نیم فوجی اہلکاروں کی لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں جبکہ جو مغوی اہلکار زندہ اور سلامت بازیاب ہوا ہے، وہ بظاہر اغوا کاروں کے قبضے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ زخمی حالت میں بازیاب ہونے والے مغوی اہلکار کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

جمعرات کو جانی خوڑ اور حسن خیل میں ان سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملوں کے بعد پاکستان طالبان نے اپنے ایک ترجمان کے ذریعے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ اعتراف بھی کر لیا تھا کہ حملہ آور عسکریت پسند ان کیمپوں سے 23 اہلکاروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اس سے قبل پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا اور پھر ان کے قتل کا واقعہ اسی سال اگست میں پیش آیا تھا۔ تب پاکستانی طالبان نے باجوڑ کے قبائلی علاقے میں سکیورٹی دستوں کے ساتھ ہونے والی ایک بڑی جھڑپ کے بعد 15 فوجیوں کو اغوا کر لیا تھا۔ بعد میں عسکریت پسندوں نے ان فوجیوں کے سر قلم کر کے ان کی ایک ویڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کر دی تھی۔

شمال مغربی پاکستان میں صوبے خیبر پختونخوا اور افغان سرحد سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں طالبان کے خود کش بم دھماکوں اور خونریز حملوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کافی تیزی آ چکی ہے۔ ہفتہ 22 دسمبر کے روز ایسے ہی ایک خود کش حملے میں طالبان نے سیکولر سیاسی جماعت اے این پی سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کی حکومت کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور سمیت متعدد افراد کو قتل کر دیا تھا۔