.

صوابیمسلح افراد کا حملہ،6 رضاکار خواتین اور ایک ڈاکٹر قتل

غیر سرکاری تنظیم کی گاڑی پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک غیرسرکاری تنظیم کے ساتھ وابستہ چھے خاتون ورکروں اور ایک ڈاکٹر کو اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

امدادی کارکنان کے قتل کا یہ واقعہ منگل کو خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک غیر سرکاری تنظیم اُجالا کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔گاڑی میں سوار امدادی کارکنان تنظیم کے زیراہتمام بچوں کے ایک کمیونٹی سنٹر میں ڈیوٹی انجام دینے کے بعد گھروں کو واپس جارہے تھے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پچھتر کلومیٹر شمال مغرب میں واقع صوابی کے ضلعی پولیس افسر عبدالرشید خان نے فائرنگ سے چھے خواتین اور ایک مرد ڈاکٹر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ حملے میں گاڑی کا ڈرائیور شدید زخمی ہے۔

فوری طور پر واقعہ کے محرک کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا اور این جی او اجالا کے کسی ذمے دار نے بھی اس واقعہ پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔صوابی کے شاہ منصور میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹروں نے مردۃ خانے میں سات لاشیں پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ ماہ پشاور اور کراچی میں فائرنگ کے اسی طرح کے دو الگ الگ واقعات میں مسلح افراد نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کے دوران نو ہیلتھ ورکروں کو ہلاک کردیا تھا۔ان میں زیادہ تر غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیاں تھیں جو دو ڈھائی سو روپے یومیہ پر کام کررہی تھیں لیکن وہ اپنے اور گھر والوں کے لیے روٹی، روزی کا بندوبست کرتے جان ہی سے گزر گئی تھیں۔

پاکستانی طالبان نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔تاہم ان کے لیڈر پولیو کے خلاف مہم کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دے کر اس کی مذمت کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ القاعدہ کے مقتول لیڈر اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کے لیے بھی امریکی سی آئی اے کی نگرانی میں اسی طرح کی جعلی ویکسین مہم چلائی گئی تھی۔اس کے بعد ہیلتھ ورکروں پر حملوں میں اضافہ ہوا تھا اور اب وہ مسلح جنگجوؤں کا آسان ہدف ہیں۔انھیں اغوا کے بعد تاوان طلب کیا جاتا ہے یا پھر قتل کردیا جاتا ہے۔