.

کراچیبم دھماکے میں 4 افراد ہلاک ،40 سے زیادہ زخمی

کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل کو بم دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بم دھماکا کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع عائشہ منزل کے نزدیک ہوا ہے اور بم ایک موٹرسائیکل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے اور ان میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔مقتولین میں لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا ایک کارکن بھی شامل ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا یہ ایک ٹائم ڈیوائس تھی یا ریموٹ کنٹرول سے بم دھماکا کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کراچی میں بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان اور لیڈروں پر مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ریلی کو نشانہ بنایا ہے۔یہ بم حملہ ایک انتباہ تھا اور اس کے بعد مزید حملے بھی کیے جاسکتے ہیں۔ترجمان نے عام لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایم کیوایم اور عوامی نیشنل پارٹی کی ریلیوں میں شرکت سے گریز کریں ورنہ وہ اپنے نقصان کے خود ذمے دار ہوں گے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجا پرویز اشرف ،مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف اور متحدہ قومی موومنٹ کے جلا وطن سربراہ الطاف حسین نے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور اس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کراچی میں اسی ہفتے کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ایک اور بم دھماکا ہوا تھا اور اس میں ایک بین الاضلاعی بس کو تباہ کردیا گیا تھا۔اس واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت چھے افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔



پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں گذشتہ کئی ماہ سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور روزانہ کم وبیش آٹھ دس افراد فائرنگ ،بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں مارے جاتے ہیں۔اس شہر میں ماضی میں بھی دہشت گرد اپنا گھناؤنا کھیل کھیلتے رہے ہیں اور جرائم پیشہ گروہ شہریوں کو اغوا کے بعد قتل کرکے ان کی بوری بند لاشیں مختلف علاقوں میں پھینکتے رہے ہیں۔

صوبہ سندھ کی حکومت کراچی میں دہشت گردی اورٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث بیسیوں ٹارگٹ کلرزکو اب تک گرفتار کرنے کے دعوے کرچکی ہے جبکہ شہر میں امن وامان کے قیام کے لیے پولیس کی ہزاروں کی نفری کے علاوہ رینجرز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کے دس ہزار سے زیادہ اہلکار بھی تعینات ہیں لیکن اس کے باوجود امن وامان کی ابتر صورت حال جوں کی توں ہے اور شہر کے حالات روزبروز بد تر ہوتے جارہے ہیں۔