.

طالبان رہنما ملا نذیر امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

کارروائی سال نو کا پہلا ڈرون حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے قبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دس گھنٹے کے دوران تین امریکی ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈر ملا نذیر سمیت نو شدت پسند مارے گئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق ملا نذیر سراکنڈہ کے علاقے میں ہونے والے حملے میں مارے گئے۔

اس حملے میں ان کے علاوہ ایک اور طالبان کمانڈر رتا خان سمیت پانچ دیگر شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ یہ دو ہزار تیرہ میں پاکستانی سرزمین پر ہونے والا پہلا ڈرون حملہ تھا۔ طالبان کی جانب سے اب تک ملا نذیر کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

پہلا ڈرون حملہ جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگوراڈا میں ایک مکان پر کیا گیا جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی افراد کے مطابق امریکی ڈرون نے مکان پر دو میزائل داغے اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ سے لاشیں نکالیں۔

دوسرا حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں کیا گیا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ تیسرا حملہ بھی شمالی وزیرستان میں ہی ہوا جہاں مبارک شئی کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

حملوں کے بعد بھی خاصی دیر تک امریکی جاسوس طیارے علاقہ میں گھومتے رہے جس سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اس سے قبل دو مرتبہ ملا نذیر کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔پہلا حملہ فروری دو ہزار آٹھ میں مولانا ہارون وزیر کے گھر پر ہوا تھا جس میں ملا نذیر زخمی ہوئے تھے۔ دوسرا ڈرون حملہ اعظم ورسک کے علاقے میں ان کی گاڑی پر ہوا تھا جس میں ان کے بھائی سمیت چار افراد مارے گئے تھے۔