.

قاضی حسین احمد آبائی قبرستان میں بڑے بھائی کے پہلو میں سپرد خاک

نماز جنازہ پشاور میں ادا کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حُسین احمد کی نمازِ جنازہ پشاور میں ادا کر دی گئی ہے وہ گذشتہ شب دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

وفات کے وقت ان کی عمر چوہتر برس تھی اور وہ کچھ عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔

طبیعت خراب ہونے پر انہیں گزشتہ شب ہی اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انکی نمازِ جنازہ اتوار کو تین بجے جناح پارک پشاور میں ادا کی گئی جس میں ملک کی کئی سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف، سابق صدر پرویز مشرف، جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کے سربراہ مولانا فضلُ الرحمان اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی قاضی حُسین کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ۔

قاضی حسین احمد 1970 میں جماعت اسلامی پشاور ک امیر بنے تھے جس کے بعد وہ 1986 ءمیں چھ سال کےلیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1992 میں وہ دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں 1996 میں سینٹ سے استعفٰی دے دیا تھا۔ 2002 کے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

قاضی حسین احمد دس اکتوبر 2002 سے اٹھارہ فروری 2008 تک مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کے صدر بھی رہے۔

قاصی حسین احمد ممتاز مذہبی سکالر تھے اور امریکہ کی دہشت گردی مہم اور افغانستان میں جاری لڑائی میں امریکہ کی شمولیت کے مخالف تھے۔ وہ بارہ جنوری 1938 کو صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر نوشہرہ کے قریب واقع ایک گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے تھے۔ قاضی حسین احمدکے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن میں سے ایک ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی بھی پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔