.

وزیرستان امریکی ڈرون حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت

حملے میں ایک اہم طالبان کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام شمال مغربی قبائلی علاقے وزیرستان میں امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں سترہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکا کے چار بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے اتوار کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درمیان سرحد پر واقع ایک گاؤں بابرگڑھ میں تین مکانوں پر دس میزائل داغے ہیں۔ان حملوں میں تینوں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

پاکستان کے انٹیلی جنس حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی میزائل حملوں میں سترہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فوری طور پر مہلوکین کی شناخت یا قومیت معلوم نہیں ہو سکی۔

امریکی ڈرون حملوں میں تباہ شدہ تینوں ٹھکانے ایک جنگجو کمانڈر قاری عمران کے ملکیتی بتائے جاتے ہیں۔ وہ طالبان جنگجوؤں کے حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان حملوں میں ممکنہ طور پر قاری عمران ہی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم فوری طور پر قاری عمران یاکسی اور طالبان کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکی سی آئی اے نے گذشتہ کئی ماہ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی دن میں اتنی زیادہ تعداد میں میزائل داغے ہیں۔