.

میگا کرپشن اسکینڈل کے مرکزی کردار توقیر صادق گرفتار

اوگرا کے سابق چئیرمین پر 82 ارب روپے کے غبن کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بین الاقوامی پولیس ایجنسی (انٹر پول) کی مدد سے اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث آئیل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چئیرمین توقیر صادق کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی سے گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے19دسمبر کو اوگرا میں بیاسی ارب روپے کی کرپشن کے مرکزی ملزم کی ایک ہفتے میں گرفتاری کا حکم دیا تھا۔تب ایف آئی اے کے حکام نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ ''ملزم کے پاسپورٹس منسوخ کردیے گئے ہیں اور انٹرپول کو اس کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کردیے گئے ہیں''۔ایف آئی اے کے حکام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے۔

اوگرا کے سابق چئیرمین پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو بیاسی ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ملزم نے ادارے کے ایشیائی ترقیاتی بنک اور عالمی بنک کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریگولر آمدن (آپریٹنگ انکم) کو غیر ریگولر آمدن میں تبدیل کردیا تھا،بھاری رقوم لے کر متعدد سی این جی اسٹیشنز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت دے دی تھی اور ادارے میں غیر قانونی تقرر کیے تھے۔

توقیر صادق کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کے قریبی رشتے دار ہیں۔اوگرا کے چئیرمین کے عہدے پران کا تقرر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ان کا تقرر کرنے والے سلیکشن بورڈ میں اس وقت کے وفاقی وزیر پانی و بجلی اور موجودہ وزیراعظم راجا پرویز اشرف، موجودہ سیکریٹری پانی و بجلی نرگس سیٹھی اور وفاقی سیکریٹری ظفر محمود شامل تھے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین ایڈمرل فصیح بخاری نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک میں روزانہ پانچ سے چھے ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے۔پی پی پی کی قیادت میں پاکستان کی وفاقی حکومت کی بدعنوانیوں کے متعدد اسکینڈلز اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں لیکن حکمران بدعنوان عناصر کے خلاف عدالتی احکامات کے باوجود کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انھیں تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔اس حکومت نے جو بھی بڑے منصوبے شروع کیے ،کچھ عرصہ کے بعد ان کے بارے میں بدعنوانی کی نئی نئی کہانیاں منظر عام پر آتی رہی ہیں۔