.

کوئٹہ اور مینگورہ میں 6 بم دھماکے، 103 افراد جاں بحق، 230 زخمی

مینگورہ میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے دو شہروں کوئٹہ اور مینگورہ میں یکے بعد دیگرے چھے بم دھماکوں میں ایک سو تین افراد جاں بحق اور دو سو تیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کی شام یکے بعد دیگر چار بم دھماکے ہوئے ہیں۔ ان میں ستر افراد جاں بحق اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں شہر میں ایک مصروف اسنوکر کلب میں دو خود کش بم دھماکوں میں ہوئی ہیں۔حملے کے وقت وہاں نوجوانوں کا بڑا رش تھا۔

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق اسنوکر کلب میں پہلے ایک پیدل بمبار آیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعہ کے صرف دس منٹ کے بعد بارود سے بھری کار میں سواردوسرے خود کش بمبار نے کلب کی عمارت کے باہر اپنی گاڑی دھماکے سے اڑادی۔تب تک وہاں پولیس اہلکار، میڈیا اور ریسکیو ٹیمیں پہنچ چکی تھیں۔بم دھماکوں میں مرنے والوں میں آٹھ پولیس اہلکار،ایک نجی ٹی وی کا کیمرامین اور ملک گیر خیراتی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے چار رضا کار بھی شامل ہیں۔

رات کے وقت دو اور بم دھماکے کوئٹہ کے ائیر پورٹ روڈ پر ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بم دھماکوں کے نتیجے میں برقی رو معطل ہو گئی اور پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں دشواری پیش آئی ہے۔کوئٹہ میں یہ اب تک سب سے تباہ کن بم حملے ہیں۔اس سے قبل ایک دن میں بم دھماکوں میں اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئی تھیں۔

قبل ازیں کوئٹہ میں ایک اور بم دھماکے کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت بارہ افراد جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہو گئے۔کوئٹہ کے ایک پولیس افسر زبیر محمود نے بتایا کہ شہر کے باچا خان چوک کے نزدیک ایک مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس میں سبزی فروش اور استعمال شدہ کپڑے بیچنے والے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس افسر نے بتایا کہ بم دھماکے میں ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا ہے اور زخمیوں میں فرنٹییر کور کے چار اہلکار شامل ہیں۔

گنجان آباد علاقے میں ہونے والے اس بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد دکانیں اورعمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں کھڑی کی گئی ایک کار کے ساتھ ٹائم بم نصب کیا گیا تھا اور اس کے پھٹنے کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے بتایا کہ دھماکے کے لیے بیس سے پچیس کلوگرام وزنی بارود استعمال کیا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹروں نے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔

یونائیٹڈ بلوچ آرمی نامی ایک جنگجو تنظیم نے صوبائی دارالحکومت میں اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں متعدد مسلح گروہ غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں اور وہ آئے دن بے گناہ شہریوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کوئٹہ میں بم حملوں میں مارے گئے افراد کے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

تبلیغی مرکز میں بم دھماکا

ادھر شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کی وادیٔ سوات کے صدر مقام مینگورہ میں بم دھماکے میں اکیس افراد جاں بحق اور ستر سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ مینگورہ شہر کے نواح میں تختہ بند روڈ پر واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس حکام نے پہلے تبلیغی جماعت کے مرکز میں گیس سلنڈر کے پھٹنے سے دھماکے کی اطلاع دی تھی لیکن بعد میں علاقے کے پولیس سربراہ اختر حیات نے بتایا کہ دھماکا بم کے پھٹنے کے نتیجے میں ہوا ہے۔ واقعے کے وقت کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد تبلیغی مرکز میں موجود تھے اور اس وقت ایک عالم دین کی تقریر جاری تھی۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک اہلکار قیوم شاہ نے بتایا ہے کہ بم تبلیغی مرکز کے اندر نصب کیا گیا تھا۔دھماکے میں زخمی ہونے والے دو افراد کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر کوئی گیس سلنڈر موجود نہیں تھا اور اس کے دھماکے سے اتنی زیادہ ہلاکتیں نہیں ہو سکتی تھیں۔

زخمیوں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال میننگورہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال کے ایک ڈاکٹر نیاز محمد نے بتایا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔اس لیے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ تبلیغی جماعت کا کسی جنگجو یا سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔سوات میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس خالص مذہبی جماعت سے وابستہ افراد کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔