.

صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے بعد گورنر راج نافذ

وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کی کابینہ برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی وفاقی حکومت نے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کر دیا ہے اور وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کی حکومت کو برطرف کر دیا ہے۔

وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب کوئٹہ میں علمدار روڈ پر ہزارہ برادری کے سوگواروں کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آج (سوموار سے) گورنر صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوں گے اور نواب اسلم رئیسانی کی حکومت برطرف کر دی گئی ہے۔

اس موقع پر گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے اور انھوں نے میتوں کے ساتھ دھرنا دینے والے یک جہتی کونسل کے ارکان کے ساتھ مذاکرات کیے اور انھیں میتوں کی تدفین اور احتجاجی دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ فرنٹیئر کور کو کوئٹہ سمیت تمام صوبے میں امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ انھوں نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ کوئٹہ اور صوبے کے دوسرے حصوں میں لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہدافی کارروائیاں کی جائیں گی۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ کور کمانڈر کوئٹہ فرنٹئیر کور کی کارکردگی کی نگرانی کریں گے۔انھوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ چھیاسی مقتولین کی میتوں کی تدفین کر دیں لیکن یک جہتی کونسل کے رہ نما قیوم چنگیزی نے تدفین سے انکار کر دیا۔ انھوں نے وزیر اعظم سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ گورنر راج کے نفاذ کا نوٹی فیکیشن جاری ہونے تک اپنا احتجاج بھی جاری رکھیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے صوبے میں گورنر راج لگانے سے قبل تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو اعتماد میں لیا ہے۔ انھوں نے صدر آصف علی زرداری سے بھی اس تمام ایشو پر ٹیلی فون پر بات کی اور صدر نے اپنے آئینی اور قانونی مشیروں سے مشاورت کے بعد صوبے میں گورنر راج لگانے کی منظوری دی ہے۔

کوئٹہ میں جمعرات کی شب چار بم دھماکوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے چھیاسی افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کی اندوہناک ہلاکت کے خلاف ان کے لواحقین شہر کی علمدار روڈ پر میتیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں اور تین دن گزر جانے کے باوجود میتوں کی تدفین نہیں کی۔

ہفتے کے روز وفاقی وزیر خورشید شاہ نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے لیکن یہ ناکام رہے تھے اور اتوار کو وزیر اعظم راجا پرویز اشرف بہ نفس نفیس مرنے والوں کے لواحقین سے مذاکرات کے لیے کوئٹہ پہنچے تھے۔ مظاہرین کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے اور صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بم دھماکوں میں ایک سو سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں کے خلاف پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان میں ایک عرصے سے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کو دہشت گردی کے حملوں میں نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں پے در پے بم دھماکوں کے باوجود صوبائی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی اور اس نے صوبے میں امن وامان کے قیام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے تھے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے چند ماہ قبل ہی صوبے میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر قرار دیا تھا کہ صوبائی حکومت اپنا حق حکمرانی کھو چکی ہے لیکن وفاقی حکومت حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کی قیادت میں مخلوط کابینہ کو چلتا کرنے میں پس وپیش سے کام لیتی رہی تھی اور بالآخر اب بعد از خرابی بسیار مظاہرین کے شدید احتجاج کے بعد اسے چلتا کیا گیا ہے۔