.

وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے نیب افسر کی پُراسرار خودکشی

اسلام آباد میں فیڈرل لاجز سے پنکھے سے لٹکی لاش برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
وزیراعظم پاکستان راجا پرویز اشرف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے قومی احتساب بیورو(نیب) کے تحقیقاتی افسر اسلام آباد میں اپنی قیام گاہ پر پُراسرار طور پر مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔

متوفی کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔پولیس کا کہناہے کہ انھوں نے مبینہ طور پرخودکشی کی ہے۔اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس بن یامین کے مطابق جمعہ کو ان کی لاش فیڈرل لاجز نمبر دو میں ان کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس نے ان کی موت کی وجوہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہے اور وجوہ کا حتمی تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

متوفی کے ایک قریبی عزیز کا کہناہے کہ وہ رینٹل پاور کیس کی تحقیقات کے ضمن میں شدید دباؤ میں تھے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے فیڈرل لاجز کا دورہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ہمارا ساتھی ہم سے جدا ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ نیب نے کامران فیصل کو ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی ریٹائرڈ کرنل صبح صادق کو آر پی پی کے دو کیسوں میں ریفرینس دائر کرنے کی سفارش کے بعد معطل کررکھا تھا۔خود کرنل صبح صادق بھی تفتیشی افسروں کی سفارش کی حمایت کرنے پر معطل ہیں۔

متوفی کے ایک قریبی دوست نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کےاکلوتا بیٹے تھے۔وہ شادی شدہ تھے اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔کامران فیصل کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر میاں چنوں سے تھا اور انھوں نے بائیو کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کررکھی تھی۔ان کا ایک سال قبل کوئٹہ سے اسلام آباد تبادلہ ہوا تھا۔وہ نیب کے ایک اور تحقیقاتی افسر اصغرعلی کے ساتھ مل کر آرپی پی کیس کی تحقیقات کررہے تھے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ ان دنوں رینٹل پاور کرپشن کیس کے فیصلے پرعمل درآمد کی معاملے کی سماعت کررہی ہے اور اس نے منگل کو نیب کے حکام کو وزیراعظم راجا پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ نیب کے حکام کو رینٹل پاور کیس کے 30 مارچ 2012ء کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔

عدالت نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا کہ وہ ایک دن میں تمام ضروری اقدامات کرکے متعلقہ حکام کو تحقیقاتی رپورٹس پیش کریں۔عدالت عظمیٰ کو نیب کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کہا گیا کہ چئیرمین نیب نے بہ ذات خود بیورو کے تحقیقاتی افسروں کوکام سے روکا ہے۔انھوں نے سپریم کورٹ کے نام پر دو تحقیقاتی افسروں اصغرعلی اور کامران فیصل کو معطل کررکھا ہے اور یہ عذر پیش کیا کہ ان سے عدالت عظمیٰ خوش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم راجا پرویز اشرف پر ماضی میں پانی اور بجلی کے وزیر کی حیثیت سے رینٹل پاور منصوبوں میں کروڑوں روپے رشوت اور کمیشن وصول کرنے کے الزامات ہیں۔اس کیس میں کرائے کے بجلی گھروں کی مالک نو فرموں پر حکومت سے اپنے منصوبوں کی تنصیب کے لیے بائیس ارب روپے پیشگی وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان میں سے بیشتر فرموں نے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا یا پھر ان میں غیر ضروری تاخیر کردی تھی۔

یادرہے کہ سپریم کورٹ نے 30 مارچ 2012ء کو اپنے فیصلے میں آر پی پی کے ساتھ حکومت کے معاہدوں کو غیر شفاف قرار دیا تھا اور ان کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے قومی احتساب بیورو کے چئیرمین کو ان ٹھیکوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔