.

پاکستان میں قید تمام افغان طالبان کو رہا کرنے کا اعلان

طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر بھی شامل ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان نے اپنی جیلوں میں قید یا سکیورٹی اداروں کے زیرحرست تمام افغان طالبان کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے اور آیندہ دنوں میں رہائی پانے والوں میں طالبان کے نائب کمان دار ملاعبدالغنی برادر بھی شامل ہوں گے۔

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے جمعہ کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک نیوز کانفرنس میں طالبان کی رہائی کے فیصلے کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قید باقی طالبان کی رہائی کے لیے رابطے کیے جارہے ہیں اور انھیں جلد آزاد کردیا جائے گا۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ ''کیا طالبان مزاحمت کاروں کے نائب امیر اور ملا محمد عمر کے سابق دست راست ملا عبدالغنی برادر بھی رہائی پانے والوں میں شامل ہوں گے؟'' اس سوال پران کا جواب تھا کہ''ہمارا مقصد سب کی رہائی ہے''۔تاہم انھوں نے اپنے اس بیان کی وضاحت نہیں کی۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان اور افغان امن کونسل کے درمیان دوہفتے قبل اسلام آباد میں مذاکرات میں طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے تحت پاکستان میں زیرحراست تیرہ طالبان قیدیوں کو رہا کردیا گیا تھا۔افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس سمجھوتے کا خیرمقدم کیا تھا لیکن طالبان کے ایک عہدے دار نے اس اقدام کو افغانستان میں قیام امن سے غیرمتعلق قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

افغان حکومت پاکستان سے زیر حراست سنئیر طالبان لیڈروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس طرح جنگ زدہ ملک میں گذشتہ گیارہ سال سے جاری خونریزی کے خاتمے اور قیام امن میں مدد مل سکتی ہے۔

یادرہے کہ ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے 2010ء میں پاکستان کے فوجی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔وہ تب سے پاکستانی حکام کے زیر حراست ہیں۔تاہم ان کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کہاں رکھا جارہا ہے؟

ملا برادر طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے دست راست رہے تھے۔وہ ماضی میں افغانستان پر قابض غیر ملکی فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ کی قیادت کرتے رہے تھے۔افغان حکام اور امریکا کو توقع ہے کہ ملا بردار ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی فوجوں کا 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے انخلاء مکمل ہوگا لیکن اس سے قبل وہ افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔وہ اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کا جنگ زدہ ملک سے آبرومندانہ انداز میں انخلاء ہو اور غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں طوائف الملوکی کے بجائے امن کا دور دورہ ہو۔مگرغیر ملکی فوج کے جانے کے بعد طالبان کی امن عمل میں شرکت کے بغیر جنگ زدہ ملک میں قیام امن ایک خواب نظرآرہا ہے اور بظاہر افغانستان میں حالات کی بہتری کے امکانات کم ہیں۔