.

کامران فیصل کی موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام

نیب کے تحقیقاتی افسر کی پُراسرار خودکشی کا معما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
حکومتِ پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی موت کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج، جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے۔

کمیشن دوہفتے کے اندر متوفی کی پراسرار موت سے متعلق شواہد اور بیانات قلم بند کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گا ۔نیب کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت چار عہدے دار سوموار کو کمیشن کے روبرو اپنے بیانات قلم بند کرائیں گے۔

وزیر اعظم پاکستان کے خلاف بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے قومی احتساب بیورو کے مرحوم تحقیقاتی افسر کے لواحقین ان کی پُراسرار موت کو خودکشی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور ان کی اچانک موت کی وجوہ جاننے کے ہی حکومت نے عجلت میں عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے کیونکہ میڈیا میں حکومت کی جانب ہی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔

متوفی کے والد عبدالحمید کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کلائیوں پر تشدد کے نشانات تھے اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ متوفی کے ہاتھوں کو باندھا گیا تھا۔انھوں نے ایک روز قبل ایک اور بیان میں کہا تھا کہ ان کا بیٹا مضبوط اعصاب کا مالک تھا اور وہ خودکشی نہیں کرسکتا تھا۔

مرحوم کے ماموں نے بھی الزام عاید کیا ہے کہ کامران فیصل کے بازو، کمر اور کلائیوں پرتشدد کے نشانات تھے۔اُن کا کہنا ہے کہ میت کوغسل دینے کے دوران تشدد کے نشانات دیکھے گئے ہیں۔اِس سے اُن کی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ کامران فیصل نے خودکشی نہیں کی بلکہ اُسے قتل کیا گیا ہے۔

لیکن ایک مقامی پولیس افسر قیصر نیاز نے ان کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔اُن پولیس افسر صاحب کا کہنا ہے کہ چھے ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوفی کے جسم پر کوئی مشتبہ نشانات نہیں تھے اور پولیس واقعہ کو خودکشی ہی قرار دے رہی ہے۔



واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان راجا پرویز اشرف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے نیب کے تحقیقاتی افسرکامران فیصل جمعہ کو اسلام آباد کی فیڈرل لاجز میں پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے۔

اُن کی لاش لاجز کے کمرہ نمر ایک میں پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔اس سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ انھوں نے خودکشی کی ہے۔ان کی لاش کا اسلام آباد میں پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا تھا۔اس کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کردیا گیا اور ہفتے کے روز ان کے آبائی شہر میاں چنوں میں ان کی تدفین کردی گئی تھی۔



متوفی کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔نیب نے کامران فیصل کو ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی ریٹائرڈ کرنل صبح صادق کو آر پی پی کے دو کیسوں میں ریفرینس دائر کرنے کی سفارش کے بعد معطل کررکھا تھا۔خود کرنل صبح صادق بھی اس وقت تفتیشی افسروں کی سفارش کی حمایت کرنے پر معطل ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ان کی ناگہانی موت سے تین روز قبل ہی نیب کے حکام کو وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سمیت سولہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ نیب کے حکام کو رینٹل پاور کیس کے 30 مارچ 2012ء کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کرنے دیا جارہا ہے مگر عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کراتے ادارے کا متعلقہ افسر جان سے ہی گزر گیا ہے اور اس کی موت پاکستان میں دیگر بڑے پراسرار قتلوں کی طرح معما بن کر رہ گئی ہے۔