.

عدالت عظمیٰ کامران فیصل کی موت کی تحقیقات کرے گی

قتل یا خودکشی؟ واقعہ کی سماعت کے لیے بنچ کی تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے بدھ کو رینٹل پاور پراجیکٹس عمل درآمد کیس (آر پی پی )کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو(نیب) کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ کا ایک الگ بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو کل جمعرات سے اس نئے کیس کی سماعت اور تحقیقات کرے گا۔

چیف جسٹس نے (رجسٹرار) دفتر کو ہدایت کی ہے کہ کامران فیصل کی موت سے متعلق کیس کو چوبیس جنوری کو ایک اور بنچ کے روبرو پیش کیا جائے جو اس کی مزید تحقیقات کرے گا۔انھوں نے کہا کہ متوفی کامران کے خاندان ،ساتھیوں ،دوستوں اور عوام نے ان کی موت پر اپنے غم وغصے اور تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وہ آر پی پی اسکینڈل میں ملک کی بااثر سیاسی اور انتظامی شخصیات کے ملوث ہونے کے پیش نظر اس واقعہ کی آزادانہ ،دیانتدارانہ اور شفاف تحقیقات کی توقع نہیں کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کامران فیصل کی موت کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔یہ ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے اور ان کی موت کے بعد کوئی بھی پاکستان میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ''کامران فیصل کی موت 18جنوری کو واقع ہوئی تھی لیکن ابھی تک اس واقعہ کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج نہیں کی گئی ہے''۔


نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ بیورو کو تحقیقاتی افسر کی موت کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔ مسٹر آغا کا کہنا تھا کہ ہرکوئی متوفی کی موت سے متعلق سچ کو جاننا چاہتا ہے اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جانی چاہیے۔اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ کامران فیصل کی موت کے ذمے داروں کو گرفتار کیا جائے۔

سماعت کے دوران چئیرمین نیب ایڈمرل فصیح بخاری نے اپنا یہ بیان بھی واپس لے لیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کامران فیصل کی موت کی تفتیش تک آر پی پی اسکینڈل کی تحقیقات معطل رہے گی۔انھوں نے کہا کہ رینٹل پاور کیس سے متعلق نیب کی تحقیقات جاری رہے گی۔

عدالت نے اس مقدمے کی مزید سماعت انتیس جنوری تک ملتوی کردی ہے۔سماعت ملتوی ہونے کے بعد کامران فیصل کی ناگہانی موت سے متعلق کیس کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ کے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دو رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جو کل جمعرات سے ہی اس کیس کی مزید سماعت شروع کررہا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے قومی احتساب بیورو کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ناگہانی موت کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔یہ کمیشن دوہفتے کے اندر متوفی کی پراسرار موت سے متعلق شواہد اور بیانات قلم بند کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گالیکن عوامی وصحافتی حلقوں اور خود متوفی کے خاندان نے اس کمیشن پرعدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور اب اس کی تحقیقات کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے خلاف بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے قومی احتساب بیورو کے مرحوم تحقیقاتی افسر کے لواحقین ان کی پُراسرار موت کو خودکشی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔متوفی کے والد عبدالحمید کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کلائیوں پر تشدد کے نشانات تھے اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ متوفی کے ہاتھوں کو باندھا گیا تھا۔اس دوران متوفی کی بعد از موت موبائل کیمرے سے لی گئی ایک تصویر بھی منظرعام پر آئی ہے۔اس میں متوفی کے پاؤں کمرے میں رکھی میز کے اوپر ہیں اور ان کی گردن پنکھے سے بندھے ازاربند سے لٹک رہی ہے۔

مرحوم کے ماموں اور چچا نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ کامران فیصل کے بازو، کمر اور کلائیوں پرتشدد کے نشانات تھے۔اُن کا کہنا ہے کہ میت کوغسل دینے کے دوران تشدد کے نشانات دیکھے گئے تھے۔اِس سے اُن کی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ کامران فیصل نے خودکشی نہیں کی بلکہ اُسے قتل کیا گیا ہے۔



واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان راجا پرویز اشرف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے نیب کے تحقیقاتی افسرکامران فیصل گذشتہ جمعہ کو اسلام آباد کی فیڈرل لاجز کے کمرہ نمبر ایک میں پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے اور ان کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔اس سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ انھوں نے خودکشی کی ہے۔متوفی کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔نیب نے کامران فیصل کو ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی ریٹائرڈ کرنل صبح صادق کو آر پی پی کے دو کیسوں میں ریفرینس دائر کرنے کی سفارش کے بعد معطل کررکھا تھا۔