81 ہلاکتوں کے بعد کوئٹہ سوگوار، صوبے میں کاروبار زندگی معطل

امریکا نے بھی ہزارہ ٹاؤن دھماکے کی مذمت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ روز ہونے والے طاقتور خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔

اتوار کو شہر میں ہڑتال ہے جبکہ صوبے بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے۔ ادھر امریکا نے بھی ہفتے کے روز ہزارہ شیعہ کیمونٹی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔

ہفتہ کی شام شہر کے علاقے کیرانی روڈ پر ایک خودکش حملے میں ابتدائی طور پر خواتین اور بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق اور کم از کم 200 زخمی ہوئے تھے۔

تاہم ہسپتالوں میں زیر علاج بعض افراد اپنے زخموں کی تاب نہ لا سکے جس کے بعد سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 81 ہو گئی۔

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کی جانب سے ذمہ داری قبول جانے کی وجہ سے دھماکے کو ہزارہ شیعہ کیمونٹی کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

دھماکا کیرانی روڈ پر واقع ایک اسکول کے قریب ہوا، یہ علاقہ ہزارہ ٹاؤن کے قریب واقع ہے جہاں شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برداری کے افراد کی اکثریت آباد ہے۔

یاد رہے کہ اس سےقبل گزشتہ ماہ 10 جنوری کو کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ پر اسنوکر کلب کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم از کم 81 افراد جاں بحق اور 120 زخمی ہو گئے تھے۔

سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر محمود نے کہا کہ دھماکے سے 65 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ میر زبیر نے کہا کہ دھماکے میں 80 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جو علمدار روڈ دھماکے سے زیادہ تھا۔ دھماکے سے دو منزلہ عمارت منہدم ہو گئی ہے جبکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے جسے جلد مکمل کر لیں گے۔

اس سے قبل کوئٹہ کے سینئر پولیس آفیسر وزیر خان ناصر نے بتایا کہ ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا جسے موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیر خان نے مزید کہا کہ یہ فرقہ وارانہ کارروائی ہے جس میں شیعہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے ترجمان نے ہفتے کو ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر کے مختلف علاقوںمیں سنی گئی، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ دھماکے کے بعد شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ قریب موجود متعدد گاڑیوں اور رکشوں کو بھی نقصان پہنچا۔

گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے کیرانی دھماکے پر کل صوبے بھر میں یوم سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ کے قاد الطاف حسین نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بہیمانہ فعل قرار دیا ہے۔ مرکزی اور صوبہ سندھ میں حکومتی اتحاد سے علاحدگی اختیار کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ نے دھماکے کے خلاف کل یوم سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین نے بھی دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اتوار کو احتجاجاً کوئٹہ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی نے بھی کل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں