.

مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی پاکستان پہنچ گئے

60 کی دہائی میں جمال عبدالناصر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ایک روزہ دورہ پر آج اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ پیر کی صبح چکلالہ ایئر بیس پر اترنے والے مرسی پہلے سویلین مصری صدر ہیں جو آزادانہ انتخابات کے بعد جمہوری انداز میں منتخب ہوئے ہیں۔

کابینہ کی تحلیل کے باعث وزیر مہمان داری نہ ہونےکی وجہ سےان کا استقبال سید مشاہد حسین اور پاکستان میں موجود عرب ممالک کے سفارتکاروں نے کیا۔ بعد میں مصری صدر کو ایوان صدر میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

مرسی آج صدر زرادری سے براہ راست ملاقات کریں گے جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی امور پر تفصیلی مذاکرات کرینگے۔ بعد میں وفود کی سطح پر بات چیت ہو گی۔ توقع ہے کہ دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان کئی سمجھوتوں پر دستخط ہوں گے۔ انیس سو ساٹھ میں آخری مرتبہ مرحوم جمال عبدالناصر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ کو کہا تھا کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں اپنے پہلے دورے کیلئے صدر مرسی کا پاکستان کو منتخب کرنا دونوں ملکوں کے خصوصی دوستانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ مصری صدر پاکستان کے بعد ہندوستان بھی جائیں گے۔

مصر کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے صدر محمد مرسی اس سے پہلے اسلامی ممالک کے ایک سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے نومبر میں پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم تب یہ دورہ اس لیے ملتوی کر دیا گیا تھا کیونکہ اُنہی دنوں مرسی، اسرائیل اور اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ ملتوی کئے جانے والے دورے کے موقع پر صدر مرسی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خصوصی خطاب بھی کرنا تھا۔ آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنے والے مصری صدر جمال عبدالناصر تھے، جو ساٹھ کے عشرے میں پاکستان گئے تھے۔

پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد مرسی بھارت جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ مصری میڈیا کے مطابق اُن کے اِس دورہ بھارت کے دوران ممکنہ طور پر مصر میں بھارتی سرمایہ کاری میں اضافے اور باہمی تجارت کو توسیع دینے جیسے امور پر بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ بھارت مصر کا ساتواں بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ اپنی بیمار معیشت کے احیاء کے لیے مصر بھارت کے ساتھ اپنے ان روابط کو مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے۔