.

مصر، شام میں خونریزی رکوانے کے لیے کردار ادا کرے: پاکستان

شامی عوام کو اپنے حق خودارادی کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے مصری ہم منصب ڈاکٹر محمد مرسی پر زوردیا ہے کہ وہ شام میں خونریزی رکوانے اور بحران کے حل کے لیے کردار ادا کریں۔ انھوں نے شامی بحران کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کی بھی پیش کش کی ہے۔

انھوں نے مصری صدر سے یہ بات اسلام آباد میں ملاقات میں کہی ہے۔وہ پاکستان کے ایک روزہ دورے پر سوموار کی صبح پہنچے تھے۔اس ملاقات کے بعد صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا کہ صدر زرداری نے شام میں خونریزی رکوانے اور بحران کے پرامن حل کے لیے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''خانہ جنگی کاشکار ملک میں شامی عوام ہی کو امن عمل کو آگے بڑھانا چاہیے اور اس ضمن میں پاکستان کردار ادا کرنے کو تیار ہے''۔ پاکستانی صدر نے کہا کہ شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ شام میں بیرونی مداخلت سے پیچیدہ صورت حال مزید سنگین ہوجائے گی اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے بھی سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔

صدر زرداری نے پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مربوط کوششیں کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔دونوں صدور نے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات،علاقائی اور عالمی امور اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

انھوں نے عوام کی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہر دو سال کے بعد اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کیے جائیں اور پاکستان اور مصر باری باری ان اجلاسوں کی میزبانی کریں گے۔

اس ملاقات کے بعد پاکستانی صدر نے صدر محمد مرسی کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔مصری صدر کے وفد میں دوسرے اعلیٰ عہدے داروں کے علاوہ وزیردفاع اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی اور وزیرخارجہ محمد کامل عمرو شامل تھے۔ظہرانے میں پاکستان کے وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صدر مرسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حکومت اور عوام کی سطح پر برادرانہ اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور یہ تعلقات 1948ء سے چلے آ رہے ہیں۔انھوں نے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قریبی تعاون کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

مصری صدر نے کہا کہ فلسطینیوں کی خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور انھیں آزادانہ زندگی بسر کرنے کا حق ہونا چاہیے۔شام کی صورت حال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شام میں خونریزی کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جانی چاہئیں اور شامی عوام کو اپنے حق خودارادی کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔

صدر مرسی کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے حکام نے جہازرانی، سرمایہ کاری، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے پانچ سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔ مصری صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی اور پاکستان کے دورے کی دعوت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پی ٹی وی نے ایوان صدر اسلام آباد میں صدر مرسی کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب براہ راست نشر کی ہے جہاں پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا ہے۔

سوموار کی شام مصری صدر اپنے جنوبی ایشیا کے دورے کے دوسرے مرحلے میں بھارت روانہ ہونے والے تھے جہاں وہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور بزنس کمیونٹی کے لیڈروں سے معاشی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ صدر مرسی مصر کی بحران زدہ معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے پاکستان،بھارت اور دوسرے دوست ممالک سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ مصری معیشت سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے بعد سے بحران کا شکار ہے جبکہ حالیہ مہینیوں میں سیاسی اتھل پتھل اور مرسی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے بھی معیشت کا پہیہ رک چکا ہے۔اس ہنگامہ آرائی سے زر مبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔